Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

426 - 457
علی زوجتہ واولادہ الصغار من مالہ]١٦٥٣[(٤) ولا یفرق بینہ وبین امرأتہ۔

ج سابع ،ص ٩٤، نمبر ١٢٣٤٦سنن للبیہقی،باب من قال تنتظراربع سنین ثم اربعة اشہر وعشرا ثم تحل ،ج سابع، ص ٧٣٣، نمبر ١٥٥٦٩)اس اثر سے معلوم ہوا کہ مفقود کے مال میں سے اس کی بیوی پر خرچ کیا جائے گا۔
]١٦٥٣[(٤)مفقود اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق نہیں کی جائے گی۔  
تشریح  جب تک کہ کوئی حتمی بات نہ ہو جائے مثلا موت کی خبر آجائے یا طلاق نہ ہو جائے اس وقت تک مفقود اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق نہیں کی جائے گی ۔
 وجہ  اوپر ضروری نوٹ میں حدیث گزری۔ عن المغیرة بن شعبة قال قال رسول اللہ امرأة المفقود امرأتہ حتی یأتیھا الخبر (الف) (دار قطنی ،کتاب النکاح ج ثالث ص ٢١٧ نمبر ٣٨٠٤ سنن للبیہقی ، باب من قال امرأة المفقود امرأتہ حتی یأتیھا یقین وفاتہ، ج سابع، ص ٧٣١، نمبر ١٥٥٦٥)(٢) عن علی فی امرأة المفقود اذا قدم وقد تزوجت امرأتہ ہی امرأتہ ان شاء طلق وان شاء امسک ولا تخیر (ب)(سنن للبیہقی، باب من قال امرأة المفقودامر أتہ حتی یأتیہا یقین وفاتہ،ج سابع،ص ٧٣١،نمبر ١٥٥٦٢)  مصنف عبد الرزاق ،باب التی لا تعلم مھلک زوجھا ج سابع ص ٩٠ نمبر ١٢٣٣٠) اس اثر سے معلوم ہوا کہ دونوں کے درمیان تفریق نہ کرائی جائے۔کیونکہ وہ مفقود کی بیوی ہے (٣) عن ابن جریح قال بلغنی ان ابن مسعود وافق علیا علی انھا تنتظرہ ابدا (ج) (مصنف عبدالرزاق،باب التی لا تعلم مھلک زوجہ ج سابع ص ٩٠ نمبر ١٢٣٣٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ وہ ہمیشہ مفقود کا انتظار کرے گی۔
فائدہ  امام مالک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی خبر نہ آئے تو چار سال کے بعد مفقود کی موت کا فیصلہ کیا جائے گا اور عدت وفات چار ماہ دس دن گزار کر عورت کو دوسری شادی کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔
 وجہ  ان کی دلیل یہ اثر ہے۔ عن ابی عثمان قال اتت امرأة عمر بن الخطاب قال استھوت الجن زوجھا فامرھا ان تتربص اربع سنین ثم امر ولی الذی استھوتہ الجن ان یطلقھا ثم امرھا ان تعتد اربعة اشہر وعشرا (د) (دار قطنی ، کتاب النکاح ،ج ثالث ،ص ٢١٧ ،نمبر ٣٨٠٣ سنن للبیہقی ، باب من قال تنتظر اربع سنین ثم اربعة اشھر وعشرا ثم تحل ،ج سابع ،ص ٧٣٢، نمبر ١٥٥٦٦ مصنف عبد الرزاق ، باب التی لا تعلم مھلک زوجھا ج سابع ص ٨٥ نمبر ١٢٣١٧) اس اثر سے معلوم ہوا کہ چار سال گزار کر موت کا فیصلہ دیا جائے گا۔  
نوٹ  زمانہ خراب ہونے کی وجہ سے جوان عورت کے لئے آج کل اسی پر فتوی دیتے ہیں۔

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے فرمایا مفقود کی عورت اس کی بیوی ہے جب تک کہ واضح خبر نہ آجائے(ب) حضرت علی نے مفقود کی بیوی کے بارے میں بتایا۔اگر مفقود آجائے اور اس کی بیوی شادی کر چکی ہو تب بھی وہ اس کی بیوی ہے۔ اگر چاہے طلاق دے اور چاہے تو روک لے۔اور عورت کو اختیار نہیں ہوگا (ج) عبد اللہ بن مسعود نے حضرت علی کی موافقت کی اس بات پر کہ مفقود کی بیوی ہمیشہ انتظار کرے گی (د) ایک عورت حضرت عمر کے پاس آئی ،اس کے شوہر کو جن اڑالے گیا تھاتو اس کو حکم دیا کہ چار سال تک انتظار کرے ۔پھر حکم دیا اس کے ولی کو جس کو جن اڑا کر لے گیا کہ اس کو طلاق دے دے۔پھر اس کو حکم دیا کہ چار ماہ دس دن گزارے۔

Flag Counter