Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

424 - 457
نوٹ   کلکیولیٹر کا حساب سمجھنے کے لئے یہ باتیں ملحوظ رکھیں۔
کلکیولیٹر میں اصل مسئلہ 100 سے چلے گا۔ اس سے کم بھی نہیں اور زیادہ بھی نہیں۔اس کو ہم فیصد کہتے ہیں۔ پوری دنیا میں اب 100 کا حساب ہے۔ اس لئے اس طریقۂ کار کو اہمیت حاصل ہے۔
اس حساب میں آدھا کو 50% ،چوتھائی کو 25% اور آٹھواں کو 12.50% کہتے ہیں۔اور تہائی کو 33.33% ،دو تہائی کو66.66% اور چھٹے حصے کو 16.66% (فیصد) کہتے ہیں۔
اب صورت مسئلہ غور سے دیکھیں ۔پہلے مسئلے میں لڑکے کو %100 میں سے 50% ملے ہیں۔اور خنثی کو لڑکا ماننے کی وجہ سے اس کا آدھا یعنی 100% میں سے 50% ملے ہیں۔ اور دوسرے مسئلے میں لڑکے کو دو تہائی یعنی 100% میں سے 66.66% یعنی چھیاسٹھ عشاریہ چھیاسٹھ ملے ہیں۔اور خنثی کو لڑکی ماننے کی وجہ سے 100% میں سے ایک تہائی یعنی 33.33% ملے ہیں۔ 
اب لڑکے کے حصے کو پہلے مسئلہ میں سے 50%اور دوسرے مسئلہ میں سے 66.66% کو جمع کریں تو مجموعہ 116.66 ہوئے۔ اور اس کا آدھا کریں یعنی 2 سے تقسیم کریں تو 58.33% نکلیںگے یعنی والد کی جائدا مثلا 100درہم ہوں تو لڑکے کو ان میں سے 58.33% ملیںگے۔یعنی 58درہم اور 33 پیسے ملیں گے۔
اور خنثی کو پہلے میں مسئلہ میں لڑکا ماننے کی وجہ سے 50% ملے تھے۔اور دوسرے مسئلہ میں لڑکی ماننے کی وجہ سے33.33% ملے تھے۔ ان دونوں حصوں کو جمع کریں تو 50% اور 33.33% تو مجموعہ 83.33% ہوئے ۔اور چونکہ لڑکے اور لڑکی دونوں کا آدھا آدھا خنثی کو ملتا ہے۔اس لئے 83.33 کو 2 سے تقسیم کردیں جس سے دونوں کا آدھا ہو جائے گا تو 41.66 نکلیںگے۔
یعنی اگر باپ کی جائداد 100درہم ہو تو لڑکے کے ساتھ خنثی کو اس میں سے 41 درہم اور 66 پیسے ملیں گے۔

دونوں اماموں کے درمیان تقسیم میں فرق یہ ہے۔

			  لڑکے کو			  خنثی کو
امام ابویوسف  کے نزدیک	57.142 			42.857 
امام محمد کے نزدیک		58.333 			41.666
		 	1.191 (زیادہ ملا)		 1.191  (کم ملا)

Flag Counter