( کتاب الحوالة )
]١٤٥٢[(١) الحوالة جائزة بالدیون ]١٤٥٣[(٢) وتصح برضا المحیل والمحتال لہ
( کتاب الحوالة )
ضروری نوٹ حوالہ کا مطلب یہ ہے کہ دین اصل مقروض سے کفیل کی طرف چلا جائے اور اب صرف کفیل ذمہ دار ہو۔چونکہ اس میں قرض دوسرے کی طرف حوالہ ہو گیا اس لئے اس کو حوالہ کہتے ہیں۔حوالہ کا ثبوت اس حدیث میں ہے۔عن ابن عمر عن النبی ۖ قال مطل الغنی ظلم واذا احلت علی ملی فاتبعہ ولا تبع بیعتین فی بیعة (الف) (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی مطل الغنی ظلم ص ٢٤٤ نمبر ١٣٠٩ ابن ماجہ شریف ،باب الحوالة ص ٣٤٤ نمبر ٢٤٠٤ بخاری شریف ، باب الحوالة وھل یرجع فی الحوالة ص ٣٠٥ نمبر ٢٢٨٧) اس حدیث میں حوالہ کرنے کا ذکر ہے۔اور یہ بھی ہے کہ کسی مالدار کی طرف حوالہ کیا تو اس کا پیچھا کرنا چاہئے۔
اس باب میں چار الفاظ استعمال ہوتے ہیں اس کی تفصیل یہ ہے(١) جو آدمی قرض کا ذمہ دار یعنی کفیل بنے کہ اب میں قرض ادا کروں گا اس کو 'محتال علیہ 'کہتے ہیں (٢) اور جس آدمی پر قرض تھا مدیون یعنی مکفول عنہ اس کو' محیل 'کہتے ہیں (٣) اور جس کا قرض تھا یعنی مکفول لہ اس کو 'محتال لہ' یا ' محتال' کہتے ہیں (٤) اور جس مال کا ضامن بنا یعنی مکفول بہ اس کو 'محتال بہ' کہتے ہیں۔
]١٤٥٢[(١)حوالہ جائز ہے دین کا۔
تشریح جو قرض صحیح کسی آدمی پر ہو اس کا حوالہ کسی آدمی پر کرے تو جائز ہے۔
وجہ محتال علیہ یعنی کفیل کا اپنا مال ہے اس لئے وہ کسی کو بھی دے سکتا ہے (٢) اوپر حدیث گزری کہ کسی مالدار پر حوالہ کیا جائے تو اس کا پیچھا کرنا چاہئے (٣) خود حضرت ابو قتادہ نے اپنے اوپر میت کا حوالہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ فقال ابو قتادة صل علیہ یا رسول اللہ وعلی دینہ فصلی علیہ (ب) (بخاری شریف ، باب اذا احال دین المیت علی رجل جاز ص ٣٠٥ نمبر ٢٢٨٩) اس لئے ان احادیث کی وجہ سے حوالہ جائز ہے۔
]١٤٥٣[(٢)حوالہ صحیح ہوتا ہے محیل اور محتال لہ اور محتال علیہ کی رضامندی سے۔
تشریح حوالہ میں تینوں آدمی راضی ہوں تو حوالہ صحیح ہوتا ہے۔محیل یعنی مقروض،محتال لہ یعنی قرض دینے والا اور محتال علیہ یعنی جو قرض ادا کرنے کی ذمہ داری لیتا ہو۔
وجہ محیل کی رضامندی کی ضرورت اس لئے ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کسی کا احسان اپنے اوپر نہیں لینا چاہتا ہو اس لئے اس کی رضامندی کی ضروت ہے۔
فائدہ بعض روایت میں ہے کہ اس کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہے۔
حاشیہ (الف) حضورۖ نے فرمایا مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔اور جب مالدار ہوتے ہوئے حوالہ کیا گیا تو اس کے پیچھے لگو اور ایک بیع میں دو بیع مت کرو(ب) حضرت ابو قتادة نے فرمایا آپۖ اس آدمی پر نماز پڑھئے مجھ پر اس کے دین کی ذمہ داری ہے۔پھر آپۖ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔