Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

416 - 457
]١٦٣٢[(١٣) فان اعطی علامتھا حل للملتقط ان یدفعھا الیہ ولا یجبر علی ذلک فی القضائ]١٦٣٣[(١٤) ولا یتصدق باللقطة علی غنی]١٦٣٤[(١٥) وان کان الملتقط 

والابل ص ٧٨ نمبر ١٧٢٢ ٤٥٠٢) اس حدیث میں ہے کہ مالک آجائے تو اس کو دے دو اور بینہ پیش کرنے کا حکم نہیں ہے۔اس لئے بینہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
]١٦٣٢[(١٣)پس اگر بتایا اس کی علامت تو حلال ہے پانے والے کے لئے کہ لقطہ اس کو دے دے لیکن قضاء کے طور پر اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔  
تشریح  قضاء کے طور پر تو اسی وقت مجبور کیا جائے گا جبکہ مالک اس کے ہونے پر بینہ پیش کردے۔لیکن اگر صرف علامت بتاتا ہے تو دینے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔البتہ ملتقط کے لئے دینا حلال ہو جائے گا۔  
وجہ  (١) اوپر حدیث گزر چکی ہے  فان جاء بھا فادھا الیہ (بخاری شریف نمبر ٢٤٣٦ مسلم شریف نمبر ١٧٢٢) (٢) کی حدیث میں یہ زیادتی ہے ۔فان جاء احد یخبرک بعددھا ووعاء ھا ووکاء ھا فاعطھا ایاہ (الف) مسلم شریف ، باب معرفة العفاص والوکا ء ص ٧٨ نمبر ١٧٢٣) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علامت بتائے تو اس کے حوالے کرنا جائز ہے۔
]١٦٣٣[(١٤)اور لقطہ مالدار پر صدقہ نہ کرے۔  
وجہ  حدیث میں ہے کہ صدقہ کرے اور صدقہ غرباء پر ہوتا ہے۔اس لئے پتہ چلتا ہے کہ مالدار پر صدقہ نہ کرے۔حدیث میں ہے۔عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ وسئل عن اللقطة فقال لا تحل اللقطة من التقط شیئا فلیعرفہ سنة فان جاء صاحبھا فلیردھا الیہ وان لم یأت صاحبھا فلیتصدق بھا (ب) (دار قطنی ، کتاب الرضاع ج رابع ص ١٠٨ نمبر ٤٣٤٣ مصنف عبد الرزاق ، کتاب اللقطة ج عاشر ص ١٣٩ نمبر ١٨٦٣٠) مصنف میں حضرت عمر کا قول ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ کرے اور صدقہ فقیر پر ہوتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ مالدار پر صدقہ نہ کرے۔
]١٦٣٤[(١٥) اور اگر ملتقط مالدار ہو تو جائز نہیں ہے کہ لقطہ سے فائدہ اٹھائے۔  
وجہ  کچھ حدیث اور اثر تو مسئلہ نمبر ١٤ میں گزر گئے (٢) ایک اثر یہ بھی ہے۔عن نافع ان رجلا وجد لقطة فجاء الی عبد اللہ بن عمر فقال لہ انی وجدت لقطة فماذا تری فقال لہ ابن عمر عرفھا قال قد فعلت قال زد قال قد فعلت قال لا آمرک ان تأکلھا ولو شئت لم تأخذھا (ج) (سنن للبیہقی ، باب اللقطة یأکلھا الغنی والفقیر اذا لم تعترف بعد تعریف سنة،  ج سادس ،ص ٣١٢، نمبر 

حاشیہ  :  (الف) پس اگر کوئی آدمی اس کی تعداد اور برتن اور بندھن کے بارے میں خبر دے تو لقطہ اس کو حوالہ کردے(ب) لقطہ کے بارے میں آپ کو پوچھا تو آپۖ نے فرمایا لقطہ اٹھانا حلال نہیں ہے ۔جس نے کچھ اٹھایا تو اس کو ایک سال تک تشہیر کرنی چاہئے۔پس اگر اس کا مالک آئے تو اس کو لوٹا دو۔اور اگر اس کا مالک نہ آئے تو اس کا صدقہ کردو(ج) ایک آدمی نے لقطہ پایا اور عبد اللہ بن عمر کے پاس آیا اور ان سے کہا میں نے لقطہ پایا ہے ۔پس آپ کی کیا رائے ہے؟ اس سے حضرت ابن عمر نے  کہا اس کی تشہیر کرو۔اس نے کہا میں کر چکا ہوں۔ابن عمر نے فرمایا اور تشہیر کرو۔اس نے کہا کر چکا ہوں۔ابن عمر نے فرمایا تم کو یہ حکم نہیں(باقی اگلے صفحہ پر) 

Flag Counter