Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

415 - 457
سوائ]١٦٣١[(١٢) واذا حضر الرجل فادعی ان اللقطة لہ لم تدفع الیہ حتی یقیم البینة۔ 

فائدہ  امام شافعی فرماتے ہیں کہ جب تک مالک نہ آجائے اس وقت تک حرم کے لقطے کی تشہیر کرتا رہنا ہی پڑے گا۔  
وجہ  ان کی دلیل وہ احادیث ہے جن میں حرم کے لقطے کی تشہیر ہمیشہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔حدیث ہے  عن ابن عباس عن النبی ۖ قال لایلتقط لقطتھا الا معرف (الف) (بخاری شریف، باب کیف تعرف لقطة اہل مکة ص ٣٢٨ نمبر ٢٤٣٣) اور ابو داؤد میں ہے۔ عن عبد الرحمان بن عثمان التیمی ان رسول اللہ ۖ نھی عن لقطة الحاج قال احمد قال ابن وھب یعنی فی لقطة الحاج یترکھا حتی یجدھا صاحبھا (ب) (ابو داؤد شریف ، باب التعریف باللقطة ص ٢٤٥ نمبر ١٧١٩) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ حاجیوں کے لقطے کی ہمیشہ تشہیر کرتا رہے۔
]١٦٣١[(١٢)اگر آدمی حاضر ہوا اور دعوی کیا کہ لقطہ اس کا ہے تو اس کو نہیں دیا جائے گا یہاں تک کہ بینہ قائم کرے۔  
تشریح  اگر آدمی حاضر ہو اور لقطہ کی علامت بیان کرے تو اس پر دینے کا حکم نہیں دیا جائے گا جب تک کہ لقطہ اس کے ہونے پر بینہ قائم نہ کرے۔ 
 وجہ  یہ دوسرے کا مال ملتقط کے پاس امانت ہے اس لئے اس کے دینے کے لئے بینہ ضروری ہے (٢) حدیث میں ہے ۔عن ابن عباس ان النبی ۖ قال لو یعطی الناس بدعواھم لادعی ناس دماء رجال واموالھم ولکن الیمین علی المدعی علیہ (ج) (مسلم شریف ، باب الیمین علی المدعی علیہ ص ٧٤ نمبر ١٧١١) اور مدعی کے بارے میں یہ حدیث ہے ۔عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال البینة علی من ادعی والیمین علی من انکر الا فی القسامة (د) (دار قطنی ، کتاب الحدود والدیات وغیرہ ج ثالث ص ٨ نمبر ٣١٦٥) اس لئے مالک کے لئے بینہ پیش کرنا ضروری ہے۔  
نوٹ  دل گواہی دے اور حالات اچھے ہوں توصرف علامت بتانے سے ملتقط دے سکتا ہے۔کیونکہ یہاں کوئی دوسرا آدمی مزاحم نہیں ہے۔
فائدہ  امام شافعی اور امام مالک فرماتے ہیں کہ مالک آکر صرف علامت بیان کردے تو ملتقط پر دینا واجب ہے۔  
وجہ  ان کی دلیل یہ حدیث ہے جس میں مالک کے آنے پر دینے کا حکم ہے۔عن زید ابن خالد الجہنی ان رجلا سأل رسول اللہ ۖ عن اللقطة قال عرفھا سنة ثم اعرف وکاء ھا وعفاصھا ثم استنفق بھا فان جاء ربھا فادھا الیہ (ہ) (بخاری شریف ، باب اذا جاء صاحب اللقطة بعد سنة ردھا علیہ لانھا ودیعة عندہ ص ٣٢٩ نمبر ٢٤٣٦ مسلم شریف ، باب معرفة العفاص والوکاء وحکم ضالة الغنم 

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے فرمایا مکہ کا لقطہ نہ اٹھائے مگر تشہیر کرنے والے (ب) حضورۖ نے حاجیوں کے لقطے سے منع فرمایا ہے۔حضرت احمد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن وہب نے فرمایا حاجیوں کے لقطے کو چھوڑ دے تاکہ اس کا مالک پا لے(ج) آپۖ نے فرمایا اگر آدمی کو صرف اس کے دعوی سے دے دیا جائے تو لوگ آدمیوں کے خون اور مالوں کا مطالبہ کرنے لگیں ۔لیکن مدعی علیہ پر قسم ہے(د) آپۖ نے فرمایا جس نے دعوی کیا اس پر بینہ ہے۔اور انکار کرنے والے پر قسم ہے مگر قسامت میں (ہ) ایک آدمی نے حضورۖ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپۖ نے فرمایا ایک سال اس کی تشہیر کرو۔پھر اس کا بندھن اور اس کا برتن یاد رکھو۔پھر اس کو خرچ کرو۔پس اگر اس کا مالک آئے تو اس کو ادا کردو۔

Flag Counter