ان تستغرق النفقة قیمتھا باعھا الحاکم وامر بحفظ ثمنھا]١٦٢٨[(٩) وان کان الاصلح الانفاق علیھا اذن فی ذلک وجعل النفقة دینا علی مالکھا]١٦٢٩[(١٠) فاذا حضر مالکھا فللملتقط ان یمنعہ منھا حتی یأخذ النفقة]١٦٣٠[(١١) ولقطة الحل والحرم
مالک کے لئے جانور لینے کے بجائے چارے کا خرچ زیادہ دینا پڑجائے گا۔ایسی صورت میں حاکم لقطے کے مال کو بچوا دے گا۔اور اس کی قیمت کسی امین کے پاس محفوظ رکھے گا تاکہ مالک آئے تو جانور کے بجائے اس کی قیمت اس کو حوالہ کردی جائے ۔
وجہ مسئلہ نمبر ٦ میں حضرت عثمان کا لمبا اثر گزرا جس میں تھا کہ انہوں نے اونٹ کو لقطہ قرار دیا اور اس کو بچوا کر اس کی قیمت محفوظ رکھواتے تھے۔تا کہ جب اس کا مالک آئے تو اس کی قیمت حوالہ کردی جائے۔ اثر کا ٹکڑا یہ ہے سمع ابن شہاب یقول ... حتی اذا کان زمان عثمان بن عفان امر بمعرفتھا وتعریفھا ثم تباع فاذا جاء صاحبھا اعطی ثمنھا (الف) ( سنن للبیہقی ، باب الرجل یجد ضالة یرید ردھا علی صاحبھا لایرید اکلھا ،ج سادس ،ص ٣١٦،نمبر١٢٠٨٠ مصنف عبدالرزاق ، کتاب اللقطة، ج عاشر،ص ١٣٢ ،نمبر ١٨٦٠٧) اس اثر میں اونٹ بچوا کر اس کی قیمت محفوظ رکھوانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مناسب سمجھے تو قیمت محفوظ رکھوا سکتا ہے۔
]١٦٢٨[(٩)اور اگر لقطہ پر خرچ کرنا زیادہ مناسب ہو تو اس کی اجازت دیدے اور خرچ اس کے مالک پر قرض کردے۔
تشریح حاکم اگر یہ مناسب سمجھے کہ اس لقطہ پر خرچ کرنا زیادہ مناسب ہے تو خرچ کرنے کی اجازت دیدے اور جتنا خرچ کیا وہ سب لقطہ کے مالک پر قرض ہوتا رہے گا۔
]١٦٢٩[(١٠)پس جب اس کا مالک آئے تو ملتقط کے لئے جائز ہے کہ اس سے روک دے یہاں تک کہ خرچ لے لے۔
تشریح مالک آنے کے بعد ملتقط کو حق ہے کہ جب تک اپنا خرچ نہ لے لے اس وقت تک لقطہ کو اپنے پاس روکے رکھے۔
وجہ چونکہ حاکم کے فیصلے سے خرچ کیا ہے اور اس کی رقم خرچ ہوئی ہے اس لئے اس کو وصول کرنے کا حق ہے۔
]١٦٣٠[(١١) حل اور حرم کے لقطے برابر ہیں۔
تشریح یعنی دونوں کے احکام برابر ہیں کہ جس طرح حل کا لقطہ ایک سال تشہیر کے بعد اس کو خرچ کر سکتا ہے اسی طرح حرم کا لقطے کی تشہیر کے بعد خرچ کر سکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ حرم کے لئے ہمیشہ تشہیر کرتا ہی رہے۔
وجہ حضرت عائشہ کا اثر ہے۔ان امرأة سألت عائشة فقالت انی اصبت ضالة فی الحرم وانی عرفتھا فلم اجد احدا یعرفھا فقالت لھا عائشة استنفعی بھا (ب) (طحاوی شریف ، باب اللقطة والضوال ج ثانی ص ٢٥٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ حرم کا لقطہ بھی تشہیر کے بعد خرچ کیا جا سکتا ہے۔
حاشیہ : (الف) حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ ... یہاں تک کہ جب حضرت عثمان کا زمانہ آیا تو اونٹنی کے پہنچانے اور اس کی تشہیر کا حکم دیا۔پھر اس کو بیچی جاتی۔پس جب اس کا مالک آتا تو اس کو اس کی قیمت دے دی جاتی(ب) ایک عورت نے حضرت عائشہ سے پوچھا۔کہا کہ میں نے حرم میں گمشدہ لقطہ پایا ہے۔اور میں نے اس کی تشہیر کی اور کسی کو نہیں پایا جو اس کو جانتا ہو۔تو حضرت عائشہ نے فرمایا اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔