Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

413 - 457
]١٦٢٥[ (٦) فان انفق الملتقط علیھا بغیر اذن الحاکم فھو متبرع وان انفق باذنہ کان ذلک دینا علی صاحبھا]١٦٢٦[(٧) واذا رفع ذلک الی الحاکم نظر فیہ فان کان للبھیمة منفعة آجرھا وانفق علیھا من اجرتھا]١٦٢٧[(٨) وان لم یکن لھا منفعة وخاف 

]١٦٢٥[(٦)پس اگر پانے والے نے لقطہ پر خرچ کیا حاکم کی اجازت کے بغیر تو وہ احسان کرنے والا ہوگا۔اور اگر اس کی اجازت سے خرچ کیا تو یہ اس کے مالک پر قرض ہوگا ۔
 تشریح  لقطہ اٹھانے والے نے حاکم کی اجازت کے بغیر لقطہ پر خرچ کیاتو یہ اس پر احسان ہوگا۔یعنی مالک سے مقدمہ کرکے وہ خرچ نہیں لے سکے گا۔البتہ مالک خود دیدے تو ہو سکتا ہے۔اور اگر حاکم کے فیصلہ سے خرچ کیا تو یہ خرچ مالک کے ذمہ قرض ہوتا جائے گا ۔جب مالک آئے گا تو اس سے یہ قرض وصول کرے گا ۔
 وجہ  (١) حاکم کو ولایت عامہ ہے اس لئے ان کے فیصلے کے بعد لقطہ کا خرچ مالک پر قرض ہوگا ورنہ نہیں (٢) اثر میں اس کا ثبوت ہے۔عن ابراہیم قالوا لو ان رجلا التقط ولد زنا فاراد ان ینفق علیہ ویکون لہ علیہ دین فلیشھد وان کان یرید ان یحتسب علیہ فلا یشھد قال ابو حنیفة اقول انا لیس بشیء الا ان یقرضہ لہ علیہ السلطان (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب ولاء اللقیط ج تاسع ص ١٦ نمبر ١٦١٨٨) اس اثر میں ہے کہ بادشاہ طے کرے گا تب ملتقط کو خرچ ملے گا ورنہ تبرع ہوگا۔
]١٦٢٦[(٧)جب یہ مقدمہ حاکم کے پاس آئے تو اس میں غور کرے ۔پس اگر جانور کے لئے منفعت ہو تو اس کو اجرت پر رکھے اور اس پر اس کی اجرت خرچ کرے ۔
 تشریح  مثلا گائے کو لقطہ کیا اور ہر روز تین درہم کا دودھ دیتی تھی اور دو درہم کا چارہ کھاتی تھی تو حاکم اس میں غور کرکے گویا کہ دو درہم روزانہ چارے کا پانے والے کو دلوائے گااور روزانہ ایک درہم مالک کے لئے بچتا رہے گا۔  
وجہ  اس صورت میں لقطہ بھی زندہ رہے گا اور نہ مالک پر بوجھ پڑے گااور نہ ملتقط پر بوجھ پڑے گا۔  
اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ سب کے لئے جو زیادہ نفع بخش ہو وہ کام کیا جائے۔  
لغت  آجرھا  :  اجرت پر دے،  بھیمة  :  جانور، چوپایہ۔
]١٦٢٧[(٨) اور اگر لقطہ کے لئے منفعت نہ ہو اور خوف ہو کہ خرچ اس کی قیمت کو بھی لے ڈوبے گا تو حاکم اس کو بیچے اور حکم دے اس کی قیمت کی حفاظت کا ۔
 تشریح  لقطہ مال کی کوئی آمدنی نہیں ہے اور چارہ وغیرہ خرچ اتنا ہے کہ کچھ دنوں کے بعد چارے کا خرچ اس کی قیمت سے بڑھ جائے گا اور 

حاشیہ  :  (الف)حضرت ابراہیم نے فرمایا اگر کوئی آدمی ولد الزنا کو اٹھائے اور اس پر خرچ کرنا چاہے تاکہ اس پر قرض ہو تو اس پر گواہ بنا لینا چاہئے۔ اور اگر چاہتا ہے کہ اس پر احسان کرے تو گواہ نہ بنائے۔امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں ہوگا مگر یہ کہ بادشاہ اس پر قرض لگائے۔

Flag Counter