وان شاء ضمن الملتقط]١٦٢٤[(٥) ویجوز الالتقاط فی الشاة والبقر والبعیر۔
فان جاء صاحبھا والا تصدق بھا فان جاء صاحبھا بعد ما یتصدق بھا خیرہ فان اختار الا جر کان لہ وان اختار المال کان لہ مالہ (الف) (مصنف عبد الرزاق ، کتاب اللقطة ج عاشر ص ١٣٩ نمبر ١٨٦٣٠) ان دونوں اثروں میں ہے کہ صدقہ کرنے کے بعد مالک آئے تو دونوں اختیار ہیں۔صدقہ بدستور رکھنے کا اور پانے والے سے ضمان لے لینے کا بھی۔
]١٦٢٤[(٥)جائز ہے بکری ،گائے اور اونٹ کو پکڑ لینا۔
تشریح حضورۖ کے زمانے میں لوگ اچھے تھے اس لئے اونٹ کو لقطہ بنانے سے آپۖ نے منع فرمایا تھا ،کیونکہ وہ ضائع نہیں ہوگا۔اور اس کا مالک خود اس کو لے جائے گا۔لیکن بعد میں لوگ اچھے نہیں رہے اس لئے حضرت عثمان کے زمانے میں یہ فتوی دیا گیا کہ اونٹ کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوتو اس کو پکڑ لیا جائے اور تشہیر کی جائے۔بعد میں اس کو بیچ کر اس کی قیمت رکھ لی جائے تاکہ اس کے مالک کو دیا جائے۔
وجہ اثر میں ہے ۔سمع ابن شھاب یقول کانت ضوال الابل فی زمان عمر ابلا مؤبلة تناتج لایمسھا حتی اذا کان زمان عثمان بن عفان امر بمعرفتھا وتعریفھا ثم تباع فاذا جاء صاحبھا اعطی ثمنھا (ب) (سنن للبیہقی ، باب الرجل یجد ضالة یرید ردھا علی صاحبھا لایرید اکلھا ،ج سادس ،ص ٣١٦،نمبر ١٢٠٨٠ مصنف عبد الرزاق ، کتاب اللقطة، ج عاشر ،ص ١٣٢ ،نمبر ١٨٦٠٧) اس اثر میں اونٹ پکڑ لینے کا فتوی ہے۔
فائدہ امام شافعی اور امام مالک فرماتے ہیں کہ اونٹ نہ پکڑے۔
وجہ (١) اس کو جانور نہیں کھائے گا اور اس کے ساتھ کھانے پینے کی چیز ہے اس لئے غیر کے مال کو بلا وجہ نہ پکڑا جائے (٢) حدیث میں پکڑنے کی ممانعت ہے۔عن زید بن خالد الجھنی قال جاء اعرابی الی النبی ۖ فسألہ عما یلتقطہ ... قال یا رسول اللہ فضالة الغنم ؟ قال لک او لاخیک او للذئب قال ضالة الابل؟ فتمعر وجہ النبی ۖ فقال مالک ولھا ؟ معھا حذاؤھا وسقاؤھا ترد الماء وتأکل الشجر (ج) (بخاری شریف ، باب ضالُة الابل ص ٣٢٧ نمبر ٢٤٢٧ مسلم شریف ، باب معرفة العفاص والوکاء وحکم ضالة الغنم والابل ص ٧٨ نمبر ١٧٢٢) اس حدیث میں بکری پکڑنے کی ترغیب دی اور اونٹ پکڑنے سے منع فرمایا ہے۔
حاشیہ : (الف) عمر بن خطاب نے لقطہ کے بارے میں فرمایا کہ اس کی ایک سال تشہیر کرے ۔پس اگر اس کا مالک آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو صدقہ کردے۔پس اگر اس کا مالک صدقہ کے بعد آئے تو اس کو اختیار ہے چاہے تو ثواب اختیار کرے تو اس کو ثواب ملے گا اور اگر مال اختیار کرے تو اس کے لئے مال ہوگا(ب) حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ گم شدہ اونٹنی حضرت عمر کے زمانے میں ادھر ادھر پھرتی رہتی اور بچہ دیتی۔اس کو کوئی چھوتا نہیں تھا۔یہاں تک کہ حضرت عثمان کا زمانہ آیا تو اس کے پہچاننے اور اس کی تشہیر کا حکم دیا۔پھر بیچی جاتی ۔پس جب اس کا مالک آتا تو اس کی قیمت دی جاتی (ج) ایک دیہاتی حضورۖ کے پاس آیا اور لقطہ کے بارے میں پوچھا ... انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے ؟ آپۖ نے فرمایا تیری ہے ،یا تیرے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے۔ پھر پوچھا گم شدہ اونٹ کا کیا حکم ہے ؟ تو آپ کا چہرہ مبارک رنگ گیااور فرمایا تم کو اس سے کیا مطلب ؟ اونٹ کے ساتھ اس کا جوتا ہے ،پینے کا پانی ہے ،خود پانی پینے آتا ہے اور درختوں کے پتوں کو کھاتا ہے۔