Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

411 - 457
]١٦٢٣[(٤) فان جاء صاحبھا  وھو قد تصدق بھا فھو بالخیار ان شاء امضی الصدقة 

التعریف باللقطة ص ٢٤٨ نمبر ١٧٠٩ ابن ماجہ شریف ، باب اللقطة ص ٣٥٩ نمبر ٢٥٠٥) اس حدیث میں ہے کہ مالک آجائے تو اس کو دیدے ورنہ اس مال کو صدقہ کردے (٢) ان رجلا من بنی راؤس وجد صرة فاتی بھا علیا ... قال تصدق بھا فان جاء صاحبھا فرضی کان لہ الاجر وان لم یرض غرمتھا وکان لک الاجر (الف)(سنن للبیہقی ، باب اللقطة یأکلھا الغنی والفقیر اذا لم تعترف بعد تعریف سنة ،ج سادس ،ص ٣١١،نمبر١٢٠٦٢ مصنف عبد الرزاق ، کتاب اللقطة ج عاشر ص ١٣٩ نمبر ١٨٦٢٩) اس اثر سے معلوم ہوا کہ لقطہ صدقہ کرنا پڑے گا (٣) مالک کو یا اصل چیز پہنچائے اور وہ ممکن نہ ہو تو صدقہ کرکے اس کا ثواب پہنچائے۔
نوٹ  اگر خود محتاج ہو تو لقطہ کا مال خود بھی کھا سکتا ہے۔  
وجہ  ضروری نوٹ کی لمبی حدیث میں یہ ٹکڑا گزرا ہے  فان جاء صاحبھا والا فاستمتع بھا فاستمتعت (ب) (بخاری شریف ، باب اذا اخبر رب اللقطة بالعلامة دفع الیہ ص ٣٢٧ نمبر ٢٤٢٦) دوسری روایت میں ہے والا فاستنفقھا (بخاری شریف ،نمبر ٢٤٢٧ مسلم شریف ، باب معرفة العفاص والوکاء وحکم ضالةالغنم والابل ص ٧٨ نمبر ١٧٢٢ ابو داؤد شریف ، باب التعریف باللقطة ص ٢٤٥ نمبر ١٧٠١) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اٹھانے والا بھی کھا سکتا ہے۔
]١٦٢٣[(٤)پس اگر اس کا مالک آئے حالانکہ وہ لقطہ صدقہ کر چکا ہے تو مالک کو اختیار ہے اگر چاہے تو صدقہ بدستور رکھے اور چاہے تو اٹھانے والے سے ضمان لے لے۔  
تشریح  لقطہ اٹھانے والے نے لقطہ صدقہ کر دیا اس کے بعد مالک آیا اور پوری علامت بیان کی تو مالک کو اختیار ہے چاہے تو صدقہ بدستور رکھے اور اٹھانے والے سے مال کا تاوان نہ لے اور چاہے تو اٹھانے والے سے مال کا تاوان لے لے۔  
وجہ  اٹھانے والے نے بغیر مالک کی اجازت کے صدقہ کیا ہے اس لئے اٹھانے والے سے مالک ضمان لے سکتا ہے (٢) اوپر اثر گزرا ان رجلا من بنی رؤاس وجد صرة فاتی بھا علیا فقال انی وجدت صرة فیھا دراھم وقد عرفتھا ولم اجد من یعرفھا وجعلت اشتھی ان لا یجییٔ من یعرفھا قال تصدق بھا فان جاء صاحبھا فرضی کان لہ الاجر وان لم یرض غرمتھا وکان لک الاجر (ج) ( سنن للبیہقی ، باب اللقطة یأکلھا الغنی والفقیر اذا لم تعترف بعد تعریف سنة، ج سادس، ص ٣١١،نمبر١٢٠٦٢ مصنف عبد الرزاق ، کتاب اللقطة ج عاشر ص ١٣٩ نمبر ١٨٦٢٩ (٣) دوسرے اثر میں ہے  عن عمر بن الخطاب قال فی اللقطة یعرفھا سنة 

حاشیہ  :  (پچھلے صفحہ سے آگے ) تو اللہ کا مال ہے جس کو چاہے دیدیں (الف)قبیلہ راؤس کے ایک آدمی نے تھیلی پائی پس وہ حضرت علی کے پاس آئے ...حضرت علی نے فرمایا اس کو صدقہ کردو ۔پس اگر اس کا مالک آئے اور راضی ہو جائے تو اس کو اس کا اجر ملے گا۔ اور اگر راضی نہ ہو تو اس کا تاوان دے دیں اور آپ کو اجر ملے گا (ب) پس اگر لقطہ کا مالک آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔پس میں نے فائدہ اٹھا لیا(ج) بنی رؤاس کے ایک آدمی نے ایک تھیلی پائی۔پس وہ حضرت علی کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ایک تھیلی پائی ہے۔اس میں درہم ہیں اور میں نے اس کی تشہیر کی اور کوئی نہیں ملا جو اس کو پہچانتا ہو۔اور میں چاہتا تھا کہ پہچاننے والے نہ ملے۔حضرت علی نے فرمایا اس کو صدقہ کردو۔پس اگر مالک آیا اور صدقہ سے راضی ہو گیا تو اس کو اس کا اجر ملے گا۔اور اگر راضی نہ ہوا تو اس کا تاوان دے دینا اور تم کو اس کا ثواب ملے گا۔

Flag Counter