Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

410 - 457
]١٦٢١[(٢) فان کانت اقل من عشرة دراھم عرفھا ایاما وان کان عشرة فصاعدا عرفھا حولا کاملا]١٦٢٢[(٣) فان جاء صاحبھاوالا تصدق بھا۔

ولتکن ودیعة عندک فان جاء طالبھا یوما من الدھر فادھا الیہ (الف) (مسلم شریف، باب معرفة العفاص والوکاء وحکم ضالة الغنم والابل ج ثانی ص ٧٨ نمبر ٤٥٠٢١٧٢٢ بخاری شریف ، باب ضالة الغنم ص ٣٢٧ نمبر ٢٤٢٨) اس حدیث میں فرمایا کہ لقطہ پانے والے کے پاس امانت ہوگا۔
]١٦٢١[(٢)پس اگر دس درہم سے کم کی ہو تو اس کی تشہیر کرے گا چند دن،اور اگر دس یا اس سے زیادہ ہو تو اس کی تشہیر کرے گا پورے سال۔  تشریح  لقطہ کا مال دس درہم سے کم ہو تو چند دنوں تک اس کی تشہیر کرے کہ یہ مال میرے پاس ہے جس کا ہو علامت بتا کر لے لو۔اور دس درہم یا اس سے زیادہ قیمت کی ہو تو ایک سال اس کی تشہیر کرے ۔
 وجہ  دس درہم ہوتو چند دنوں تک تشہیر کرنے پر دلیل یہ حدیث ہے۔عن یعلی بن مرة قال قال رسول اللہ ۖ من التقط لقطة یسیرہ حبلا او درھما او شبہ ذلک فلیعرفنہ ثلاثة ایام فان کان فوق ذلک فلیعرفہ ستة ایام (ب) (سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی قلیل اللقطة، ج سادس، ص ٣٢٣،نمبر١٢١٠٠ مصنف عبد الرزاق ، باب احلت اللقطة الیسیرة ج عاشر ص ١٤٢ نمبر ١٨٦٣٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تھوڑی بہت قیمت کی چیز ہو تو دس روز سے کم تشہیر کرے اور زیادہ کی چیز ہو تو ایک سال تشہیر کرے اس کی دلیل یہ حدیث ہے(١) اوپر بخاری کی حدیث گزری جس میں تھا عرفھا حولا جس سے معلوم ہوا کہ ایک سال تشہیر کرے (٢) دوسری حدیث میں ہے۔عن زید بن خالد الجہنی قال جاء اعرابی الی النبی ۖ فسألہ عما یلتقطہ فقال عرفھا سنة ثم اعرف عفاصھا ووکاء ھا (ج) (بخاری شریف ،باب ضالة الابل ص ٣٢٧ نمبر ٢٤٢٧ مسلم شریف ، باب معرفة العفاص والوکاء وحکم ضالة الغنم والابل ص ٧٨ نمبر ١٧٢٢) اس حدیث میں قیمتی چیز کے لئے ایک سال تشہیر کرنے کا حکم ہے۔  
اصول  یہاں اصول یہ ہے کہ مال جتنا قیمتی ہو اور مالک کے تلاش کرنے کا امکان ہو اتنی دیر مالک کو تلاش کرتا رہے۔
]١٦٢٢[(٣)پس اگر اس کا مالک آجائے تو بہتر ہے ورنہ اس کو صدقہ کردے۔  
تشریح  اگر لقطہ کا مالک ایک سال میں مل جائے تو اس کو یہ مال دیدے اور اگر نہ ملے تو اس کو صدقہ کردے۔  
وجہ  حدیث میں ہے کہ تلاش کرنے کے باوجود مالک نہ ملے تو یہ اللہ کا مال ہے ملتقط جہاں چاہے رکھ دے۔عن عیاض بن حمار قال قال رسول اللہ ۖ ... فان وجد صاحبھا فلیردھا علیہ والا فھو مال اللہ یؤتیہ من یشاء (د) (ابوداؤد شریف ، باب 

حاشیہ  :  (الف) آپۖ سے سونا اور چاندی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا اس کے بندھن کو یاد رکھیں،پھر ایک سال تک اس کی تشہیر کریں ۔پس اگر نہ ملے تو اس کو خرچ کر لیں۔اور یہ اس کے پاس امانت ہوگی۔  پھرطالب کبھی بھی آئے تو اس کو دیدے(ب) آپۖ  نے فرمایا کسی نے تھوڑاسا لقطہ پایا رسی یا درہم یا اس کے مشابہ تو اس کی تین دن تشہیر کرنی چاہئے اور اس سے زیادہ کی ہو تو چھ دن تشہیر کرنی چاہئے (ج) ایک دیہاتی حضورۖ کے پاس آئے اور لقطے کے بارے میں پوچھا توآپۖ نے فرمایا اس کی ایک سال تشہیر کریں پھر اس کی بندھن اور رسی یاد رکھیں(د) آپۖ نے فرمایا ... اگر لقطے کا مالک مل جائے تو اس کو واپس کردو اور نہ آئے(باقی اگلے صفحہ پر) 

Flag Counter