Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

397 - 457
نصیبہ]١٥٨٨[ (١٣) وان اودع رجل عند رجلین شیئا مما یقسم لم یجز ان یدفعہ احدھما الی الآخر ولکنھما یقتسمانہ فیحفظ کل واحد منہما نصفہ]١٥٨٩[(١٤) وان کان مما لایقسم جاز ان یحفظ احدھما باذن الآخر]١٥٩٠[(١٥) واذا قال صاحب 

وجہ  وہ اپنا مال مانگ رہا ہے جو اس نے دیاتھا اس لئے مانگنے پر اس کی امانت اس کو سپرد کردی جائے گی (٢) آیت ہے  ان اللہ یأمرکم ان تؤدوا الامانات الی اھلھا (آیت ٥٨ سورة النساء ٤) اس لئے امانت والے کو امانت دے دی جائے گی۔ 
]١٥٨٨[(١٣)اگر امانت پر رکھا ایک آدمی نے دو آدمیوں کے پاس کوئی ایسی چیز جو تقسیم ہو سکتی ہو تو جائز نہیں ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو دے۔لیکن دونوں تقسیم کرے اور دونوں میں سے ہر ایک اپنے آدھے کی حفاظت کرے ۔  
تشریح   ایک آدمی نے دو آدمیوں کے پاس ایک ایسی چیز امانت رکھی جو تقسیم ہو سکتی ہو ۔مثلا ایک ہزار درہم امانت پر رکھا تو امام ابوحنیفہ کی رائے یہ ہے کہ پورے ایک ہزار ایک آدمی کو حفاظت کے لئے نہ دے بلکہ تقسیم کرکے آدھا آدھا دونوں حفاظت کرے۔  
وجہ  مالک نے دونوں آدمیوں کی حفاظت پر اعتماد کیا ہے ایک آدمی پر نہیں۔اور مال ایسا ہے کہ تقسیم ہو سکتا ہے اس لئے ایک جگہ رکھنے کی مجبوری بھی نہیں ہے اس لئے دونوں تقسیم کرکے آدھا آدھا مال حفاظت کرے۔  
اصول  ان کا اصول یہ ہے کہ دونوں پر اعتماد کیا ہے اس لئے ایک کے پاس نہ رکھے۔کیونکہ ایک پر مکمل اعتماد نہیں ہوا۔
فائدہ  صاحبین فرماتے ہیں کہ جب دونوں پر اعتماد کیا ہے تو ایک آدمی پر بھی مکمل اعتماد ہے اس لئے ایک کی اجازت سے دوسرے کے پاس پورا ہزار امانت پر رکھ سکتا ہے۔  
اصول  ان کا اصول یہ ہے کہ امین دونوں پر اعتماد کرنا ایک پر بھی مکمل اعتماد کرنا ہے۔
]١٥٨٩[(١٤) اور اگر امانت ایسی ہو جو تقسیم نہ ہو سکتی ہو تو جائز ہے کہ ان میں سے ایک حفاظت کرے دوسرے کی اجازت سے۔  
وجہ  مثلا ایک گائے ہے اور دو آدمیوں کے پاس امانت پر رکھی تو چونکہ گائے تقسیم نہیں ہو سکتی اس لئے مجبوری کے طور پر ایک امین کی اجازت سے دوسرے امین کی حفاظت میں رکھ سکتا ہے۔  
اصول  مجبوری کے درجے میں ایک امین پر مکمل اعتماد کرنے کی ضرورت ہے۔
]١٥٩٠[(١٥)اور اگر امانت پر رکھنے والے نے امین سے کہا کہ امانت اپنی بیوی کو سپرد نہ کرنا،پس اس نے اس کو سپرد کیا تو ضامن نہیں ہوگا۔  وجہ  پہلے گزر چکا ہے کہ امانت کی چیز اہل و عیال سے حفاظت کروا سکتا ہے۔کیونکہ اس کی مجبوری ہے۔اب ایسی شرط لگانا جس پر عمل کرنا مشکل ہو وہ شرط باطل ہے۔ اس لئے بیوی کو سپرد کیا اور امانت کی چیز ہلاک ہو گئی تو امین پر ضمان لازم نہیں ہوگا۔  
نوٹ  اگر ایسی چیز ہو جو اہل و عیال کو دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کو دینے سے ہلاک ہونے کا خطرہ ہو تو مالک کا یہ شرط لگانا کہ بیوی کو نہ دیں صحیح ہے۔ اور اس صورت میں بیوی کو دینے سے ضامن ہوگا۔  

Flag Counter