ان یسافر بالودیعة وان کان لھا حمل و مؤنة]١٥٨٧[(١٢) واذا اودع رجلان عند رجل ودیعة ثم حضر احدھما طلب نصیبھا منھا لم یدفع الیہ شیئا عند ابی حنیفة رحمہ اللہ تعالی حتی یحضر الآخر وقال ابو یوسف و محمد رحمھما اللہ تعالی یدفع الیہ
القراض،ج سادس، ص١٨٤،نمبر١١٦١٠)
فائدہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ معروف کا اعتبار کیا جائے گا۔اور معروف یہ ہے کہ حضرمیں حفاظت کرے سفر میں حفاظت نہ کرے اس لئے امانت کے اٹھانے میں بوجھ اور تکلیف ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں سفر میں نہیں لے جا سکتا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر امانت کے اٹھانے کا بوجھ اور تکلیف ہو تو سفر میں نہیں لے جا سکتا ۔کیونکہ اٹھانے کی اجرت مالک پر خواہ مخواہ پڑے گی۔ اس لئے بغیر مالک کی اجازت کے سفر میں نہیں لے جا سکتا ۔
لغت مؤنة : اٹھانے کی اجرت۔
]١٥٨٧[(١٢)اگر امانت پر رکھا دو آدمیوں نے ایک آدمی کے پاس کچھ امانت پھر ان میں سے ایک آیااور اس سے اپنا حصہ طلب کیا تو اس کو کچھ نہیں دیا جائے گا امام ابو حنیفہ کے نزدیک جب تک کہ دوسرا نہ آجائے۔اور فرمایا صاحبین نے اس کو اس کا حصہ دیا جائے گا ۔
تشریح دو آدمیوں نے ایک آدمی کے پاس کوئی چیز امانت پر رکھی پھر ایک آدمی نے آکر کہا کہ میرا حصہ مجھے دیدیں تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کو اس کا حصہ نہیں دیا جائے گا بلکہ جب دونوں شامل ہو کر آئیںگے تب دونوں کو پوری چیز دے دی جائے گئی۔
وجہ دونوں نے مشترک طور پر چیز امانت رکھی ہے اب ایک آدمی اپنا حصہ تقسیم کروا کر لینا چاہتا ہے اور تقسیم کرنے کا حق امین کو نہیں ہے اس لئے وہ اس کو نہیں دے سکتا (٢) ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی کچھ چکما دے کر لینا چاہتا ہے اس لئے اس کو اس کا حصہ نہیں دیا جائے گا (٢) اثر میں اس کا اشارہ ہے۔عن حنش ان رجلین استودعا امرأة من قریش مائة دینار علی ان لا تدفعھا الی واحد منھا دون صاحبہ حتی یجتمعا۔فاتاھا احدھما فقال ان صاحبی توفی فادفعی الی المال فابت فاختلف الیھا ثلاث سنین واستشفع علیھا حتی اعطتہ ثم ان الآخر جاء فقال اعطینی الذی لی فذھب بھا الی عمر بن الخطاب فقال لہ عمر ھل بینة ؟ قال ھی بینتی فقال ما اظنک الاضامنة (الف)(سنن للبیہقی ، باب لا ضمان علی مؤتمن، ج سادس، ص٤٧٣،نمبر١٢٧٠١) اس اثر میں ایک شریک کو دینے سے حضرت عمر نے عورت کو ضامن بنایا۔اس لئے امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایک شریک کو نہیں دے سکتا۔
فائدہ صاحبین فرماتے ہیں کہ شریک کو اس کا حصہ دے دیا جائے گا۔
حاشیہ : (الف) دو آدمیوں نے قریش کی ایک عورت کے پاس سو دینار امانت پر رکھے اس شرط پر کہ دونوں میں سے صرف ایک کو نہیں دے گی جب تک کہ دونوں جمع ہو کر نہ آئیں۔ بعد میں عورت کے پاس ایک آیا اور کہا میرا شریک انتقال کر گیا ہے اس لئے مال مجھے دیدیں تو اس نے انکار کیا۔ پس تین سال تک وہ آتے رہے اور سفارش کرواتے رہے۔یہاں تک کہ عورت نے اس کو امانت دیدی۔پھر دوسرا شریک آیا اور کہا کہ مجھ کو دو جو میرا مال ہے۔پس عورت کو حضرت عمرکے پاس لے گئے ۔ حضرت عمر نے فرمایا کیا گواہ ہے ؟ آدمی نے کہا عورت ہی میری گواہ ہے۔حضرت عمر نے فرمایا میرا گمان ہے کہ وہ ضامن بنے گی۔