Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

395 - 457
عند غیرہ ثم ازال التعدی وردھا الی یدہ زال الضمان]١٥٨٥[(١٠) فان طلبھا صاحبھا فجحدہ ایاھا ضمنھا فان عاد الی الاعتراف لم یبرأ من الضمان]١٥٨٦[(١١) وللمودع 

مثالیں دی ہیں (١) جانور امانت کا تھا اس لئے اس پر سوار نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن اس پر سوار ہو گیا اس لئے اس پر ہلاک ہونے پر ضمان لازم تھا لیکن اب سوار ہونا چھوڑ دیا اور امانت کی طرح رکھنے لگا تو اب جانور امانت کا شمار کیا جائے گا اور اب ہلاک ہونے پر ضمان لازم نہیں ہوگا (٢) کپڑا امانت کا تھا اس کو پہن لیا (٣) غلام تھا اس سے خدمت لینے لگا پھر چھوڑ دیا (٤) یا اپنے پاس امانت رکھنے کے بجائے دوسرے کے پاس امانت پر رکھ دیا پھر واپس کر لیا تو ضمان ساقط ہو جائے گا۔  
اصول  تعدی کے بعد تعدی ختم کردے اور امانت کی چیز صحیح سالم ہو تو ضمان ساقط ہو جائے گا۔
فائدہ  امام شافعی فرماتے ہیں تعدی ختم کرنے کے باوجود ضمان ساقط نہیں ہوگا۔  
وجہ  وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ موجب ضمان ہوگیا تو اب وہ ساقط نہیں ہوگا۔
]١٥٨٥[(١٠)اگر اس کے مالک نے امانت کو مانگا پس امین نے اس کا انکار کیا تو وہ ضامن ہو جائے گا۔پھر اگر اعتراف کی طرف لوٹ آیا تو ضمان سے بری نہیں ہوگا۔  
تشریح  مالک نے اپنی امانت مانگی اس پر امین نے انکار کر دیا کہ آپ کی کوئی امانت میرے پاس نہیں ہے۔پھر بعد میں اعتراف کر لیا کہ آپ کی امانت میرے پاس ہے۔ اس کے بعد چیز ہلاک ہو گئی تو امین ضامن ہوگا اور اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی ۔
 وجہ  مطالبہ کے بعد امین کے انکار کرنے کی وجہ سے امین کی امانت ہی ختم ہو گئی ۔اب جب تک کہ مالک دو بارہ اس کو امین نہیں بنائے گا وہ امین نہیں ہوگا ۔اور دوبارہ بنایا نہیں ہے اس لئے اعتراف کے باوجود وہ ضامن رہے گا ۔
 اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ امین ہونا ختم ہونے کے بعد دوبارہ باضابطہ امین نہیں بنایا تو وہ امین نہیں ہوگا ضامن ہی ہوگا۔  
لغت  جحد  :  انکار کیا،  اعتراف  :  اقرار کرنا،  لم یبرأ  :  بری نہیں ہوگا۔
]١٥٨٦[(١١)امین کے لئے جائز ہے کہ سفر کرے ودیعت کے ساتھ اگر چہ اس میں بوجھ اور تکلیف ہو۔  
تشریح  امین امانت کی چیز کو سفر میں لے جانا چاہے تو لے جا سکتا ہے بشرطیکہ مالک نے منع نہ کیا ہو۔اور راستے میں ہلاکت کا کوئی ا ندیشہ نہ ہو۔اگر مالک نے سفر کرنے سے منع کیا ہو یا سفر میں مال کی ہلاکت کا اندیشہ ہو تو اس کو لیکر سفر نہیں کر سکتا۔اور اگر سفر کیا اور ہلاک ہو گئی تو ضامن ہوگا۔  
وجہ  امین ہر وقت گھر میں تو رہے گا نہیں کبھی سفر بھی کرے گا۔اور مطلق حفاظت حضر اور سفر دونوں کو شامل ہے اس لئے وہ سفر کر سکتا ہے ۔منع کرنے پرسفر کرے اور ہلاک ہو جائے تو ضامن ہوگا اس کی دلیل یہ اثر ہے۔ان حکیم بن حزام صاحب رسول اللہ ۖ کان یشترط علی الرجل اذا اعطاہ مالا مقارضة یضرب لہ بہ ان لاتجعل ما لی کبد رطبة ولا تحملہ فی بحر ولا تنزل بہ فی بطن سیل  فان فعلت شیئا من ذلک فقد ضمنت مالی (دار قطنی ، کتاب البیوع ج ثالث ص ٥٣ نمبر ٣٠١٤ سنن للبیہقی ، کتاب 

Flag Counter