]١٥٨٢[(٧) وان انفق المودع بعضھا وھلک الباقی ضمن ذلک القدر]١٥٨٣[(٨) فان انفق المودع بعضھا ثم رد مثلہ فخلطہ بالباقی ضمن الجمیع]١٥٨٤[(٩) واذا تعدی المودع فی الودیعة بان کانت دابة فرکبھا او ثوبا فلبسہ او عبدا فاستخدمہ او اودعھا
]١٥٨٢[(٧)اگر خرچ کیا امانت رکھنے والے نے بعض کو اور ہلاک ہو گئی باقی تو اس مقدار ضامن ہو جائے گا۔
تشریح مثلا ایک ہزار درہم امانت پر رکھے تھے اس میں سے چھ سو درہم امین نے خرچ کر دیئے اور باقی چارسو ہلاک ہو گئے تووہ امانت کے ہلاک ہوئے ۔کیونکہ اس پر تعدی نہیں کی۔اور چھ سو درہم جو خرچ کئے اس پر تعدی کی اس لئے اس کا ضمان لازم ہوگا۔ اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ جتنے پر تعدی کی اس کا ضمان لازم ہوگا اور جتنے پر تعدی نہیں کی وہ امانت کا شمار کیا جائے گا۔
]١٥٨٣[(٨)اگر امانت رکھنے والے نے اس کے بعض کو خرچ کیا پھر اس کے مثل واپس کیا پھر اس کو باقی کے ساتھ ملا دیا تو تمام کا ضامن ہو جائے گا۔
تشریح اوپر کی مثال میں ایک ہزار امانت پر رکھا۔اس میں سے چھ سو درہم امین نے خرچ کر دیئے پھر اپنی جانب سے چھ سو درہم واپس لایا اور باقی درہم کے ساتھ ملا دیا اور تمام درہم ہلاک ہو گئے تو امین اب پورے ایک ہزار کا ضامن ہوگا۔
وجہ امین نے جو چھ سو خرچ کئے تھے وہ جب تک مالک کے حوالے نہ کرے وہ امین کا ہی درہم ہے ۔اور پہلے قاعدہ گزر گیا کہ امین اپنے مال کے ساتھ امانت کا مال ملائے گا تو امانت کا ضمان ہو جائے گا۔یہاں چھ سو اپنے مال کے ساتھ چارسو امانت کا ملایا اس لئے اب پورے ایک ہزار کا ضامن ہو جائے گا (٢) پہلے حضرت عمرکا قو ل گزر چکا ہے۔حضرت حسن کا ایک قول بھی ہے۔عن الحسن فی الرجل یودع الودیعة فیحرکھا یأخذ بعضھا قال کان یقول اذا حرکھا فقد ضمن (الف) (سنن للبیہقی ، باب لاضمان علی مؤتمن ج، سادس ،ص ٤٧٤، نمبر ١٢٧٠٥) اس اثر میں اپنے مال کو امانت کے مال کے ساتھ ملا دیا تو امین کو ضامن بنایا۔اسی طرح اپنے مال کو امانت کے مال کے ساتھ ملایا اس لئے اپنے پورے مال کا ضامن ہوگا۔پہلے چھ سو درہم کا تھا اور اب چارسو درہم کا بھی ہو گیا۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ امین کے خرچ کرنے کے بعد جب تک وہ مال مالک کے ہاتھ میں سپرد نہ کرے امین ہی کا شمار کیا جائے گا۔اور دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ اپنے مال کے ساتھ امانت کا مال ملادیا تو امانت کا ضامن ہوگا۔
]١٥٨٤[(٩)اگر امانت رکھنے والے نے امانت میں زیادتی کی اس طرح کہ جانور تھا اس پر سوار ہو گیا یا کپڑا تھا اس کو پہن لیا یا غلام تھا اس سے خدمت لے لی یا اس کو دوسرے کے پاس امانت رکھ دیا پھر تعدی زائل کردی اور اپنے پاس رکھ لیا تو ضمان زائل ہو جائے گا۔
تشریح یہ مسئلہ اس قاعدے پر ہے کہ امین نے امانت میں زیادتی کی لیکن ہلاک کئے بغیر دوبارہ زیادتی ختم کردی اور امانت کو امانت کی طرح رکھنے لگا تو چونکہ زیادتی ختم ہو گئی اس لئے ضمان بھی زائل ہو جائے گا۔اب اگر ہلاک ہوئی تو ضمان لازم نہیں ہوگا۔مصنف نے اس کی چار
حاشیہ : (الف) حضرت حسن نے فرمایا کوئی آدمی امانت رکھے پھر اس کو حرکت دے کر ہلاک کردے اور کچھ لے لے تو فرماتے تھے کہ جب حرکت دیا تو ضامن ہو جائے گا۔