خلطھا المودع بمالہ حتی لا تتمیز ضمنھا ]١٥٨٠[(٥) فان طلبھا صاحبھا فحبسھا عنہ وھو یقدر علی تسلیمھا ضمنھا ]١٥٨١[(٦) وان اختلطت بمالہ من غیر فعلہ فھو شریک لصاحبھا۔
تشریح امانت رکھنے والے نے امانت کی چیز کو اپنے مال کے ساتھ اس طرح ملا دیا کہ اس کو الگ الگ بھی نہیں کر سکتے تو امانت رکھنے والا اس امانت کا ضامن ہو جائے گا اور اس کو اس کی قیمت دینی ہوگی۔
وجہ ملانے کی وجہ سے اب وہ امین نہیں رہا بلکہ ضامن ہو گیا اس لئے اس کو ضمان دینا ہوگا (٢)مالک اب اپنے حق تک نہیں پہنچ سکتا اسلئے یہی صورت ہے کہ اس کو اس کی قیمت مل جائے (٣) اثر میں اس کا ثبوت ہے۔عن انس بن مالک قال استودعت مالا فوضعتہ مع مالی فھلک من بین مالی فرفعت الی عمر فقال انک لامین فی نفسی ولکن ھلکت من بین مالک فضمنتہ (الف) (سنن للبیہقی ، باب لا ضمان علی مؤتمن، ج سادس ،ص ٤٧٤،نمبر ١٢٧٠٤) اس اثر میں امانت کو اپنے مال کے ساتھ ملادیا اور وہ ہلاک ہو گئی تو حضرت عمر نے انس بن مالک کو ضامن بنایا۔
لغت خلط : ملادیا۔
]١٥٨٠[(٥)پس اگر امانت کو مانگا اس کے مالک نے پس روک لیا امانت رکھنے والے نے مالک سے حالانکہ وہ اس کے دینے پر قدرت رکھتا تھا تو اس کا ضامن ہوگا۔
تشریح مالک نے امین سے امانت کا مال مانگا اور امین اس کو سپرد کرنے پر قدرت رکھتا تھا پھر بھی سپرد نہیں کیا اور امانت ہلاک ہو گئی تو امین اس مال کا ضامن ہوگا۔
وجہ طلب کرنے کے باوجود نہ دینا تعدی ہے اور پہلے اثر میں گزر چکا ہے کہ تعدی کرے گا تو امین ضامن ہو جائے گا۔قال عمر بن الخطاب العاریة بمنزلة الودیعة ولا ضمان فیھا الا ان یتعدی (ب) (مصنف عبد الرزاق ، باب العاریة ج ثامن ص ١٧٩ نمبر ١٤٧٨٥) اس اثر کی وجہ سے تعدی کرنے پر امین پر ضمان لازم ہوگا۔
]١٥٨١[(٦)اور اگر مل گیا مال بغیر امین کے کچھ کئے تو وہ مالک کے ساتھ شریک ہوگا۔
تشریح اگر امین کے کچھ کئے بغیر امانت کا مال امین کے مال کے ساتھ خلط ملط ہو گیا تو امین مالک کے ساتھ شریک ہو جائے گا ضمان نہیں ہوگا وجہ امین نے ملایا نہیں ہے خود بخود ملا ہے اس لئے ان کی جانب سے تعدی نہیں ہوئی۔اس لئے ضامن نہیں ہوگا۔البتہ دونوں کا مال مل گیا ہے اس لئے دونوں شریک ہو جائیںگے۔
حاشیہ : (الف) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کی امانت رکھی پس اس کو اپنے مال کے ساتھ رکھ دیا ۔پس وہ میرے مال کے ساتھ ہلاک ہو گئی ،پس اس معاملے کو حضرت عمر کے پاس لے گیا تو انہوں نے فرمایا تم ذات کے اعتبار سے امین ہو لیکن اپنے مال کے ساتھ ہلاک کیا اس لئے تم ضامن ہوںگے(ب) حضرت عمر نے فرمایا عاریت ودیعت کی طرح ہے اور اس میں ضمان نہیں ہے مگر یہ کہ تعدی کرے۔