Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

389 - 457
وسقط ضمانہ عن الغاصب]١٥٧٤[(٢٤) ولا یضمن الغاصب منافع ما غصبہ الا ان ینقص باستعمالہ فیغرم النقصان۔

سے فائدہ اور نقصان دونوں ہیں اس لئے بچے کی قیمت سے باندی کا نقصان پورا کیا جائے گا۔ اور جب پورا ہو جائے تو غاصب سے نقصان کا ضمان ساقط ہو جائے گا۔  
اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ فائدہ اور نقصان دونوں ہوں تو نقصان کو فائدہ سے پورا کردیا جائے گا اور غاصب پر نقصان کا ضمان نہیں ہوگا۔  
لغت  وفاء  :  (پورا ہونا،  جبر  :  نقصان کی مکافات کرنا۔
]١٥٧٤[(٢٤)نہیں ضامن ہوگا غاصب اس منافع کے جن کو غصب کیا مگر یہ کہ اس کے استعمال سے نقص پیدا ہو جائے تو نقصان کا تاوان دے گا۔  
تشریح  مثلا گھر غصب کیا اور ایک مہینے تک اپنے پاس رکھے رہا نہ خود اس میں رہا اور نہ کسی اور کو رہنے دیا تو ایک مہینے کی رہائش کے منافع کی جو اجرت ہوگی غاصب اس کا ضامن نہیں ہوگا۔ ہاں ! غاصب کے رہنے کی وجہ سے گھر میں کوئی نقص پیدا ہوتا تو غاصب کو نقصان کا تاوان دینا پڑتا۔  
وجہ  جب تک کہ منافع عقد اجرت نہ ہو ہمارے یہاں وہ متقوم نہیں ہے۔اور یہاں عقد اجرت ہوا نہیں اس لئے یہ متقوم نہیں ہے۔ اس لئے غاصب پر اس کا ضمان لازم نہیں ہوگا۔ہاں ! رہنے کی وجہ سے گھر کا نقصان ہو جائے تو چونکہ عین چیز کو نقصان کیا اور ہلاک کیا اس لئے اس کی قیمت دینی ہوگی (٢) حضرت علی کے اثر سے پتہ چلتا ہے کہ منافع کی قیمت لازم نہیں ہوگی۔عن عامر الشعبی فی رجل وجد جاریتہ فی ید رجل قد ولدت منہ فاقام البینة انھا جاریتہ واقام الذی فی یدہ الجاریة البینة  انہ اشتراھا قال فقال علی یاخذ صاحب الجاریة جاریتہ ویوخذ البائع بالخلاص، قال سمعت الشعبی یقول لیس الخلاص بشیء من باع مالا یملک فھو لصاحبہ ویتبع المشتری البائع بما اعطاہ ولیس علی البائع اکثر من ان یرد ما اخذ ولا یوخذ غیرہ (الف) (سنن للبیہقی ، باب من غصب جاریة فباعھا ثم جاء رب الجاریة، ج سادس ،١٦٦،نمبر١١٥٤٨ ) اس اثر میں حضرت علی نے مالک کی طرف صرف باندی لوٹانے کا حکم دیا اور مشتری کو کہا کہ بائع کو جتنی قیمت دی ہے وہ واپس لے لے۔لیکن مشتری نے باندی سے جو فائدہ اٹھایا ہے اس کی کوئی اجرت مشتری پر لازم نہیں کی ۔جس سے معلوم ہوا کہ منافع کی جب تک اجرت متعین نہ کرے اس وقت تک اس کی اجرت لازم 

حاشیہ  :  (الف)حضرت عامر شعبی نے فرمایا ایک آدمی نے اپنی باندی ایک آدمی کے پاس پائی۔اس نے اس سے بچہ دیا تھا۔پس اس نے بینہ قائم کیا کہ اس کی باندی ہے۔ اور جس کے قبضے میں باندی تھی اس نے بینہ قائم کیا کہ اس نے اس کو خریدا ہے۔ پس حضرت علی نے فرمایا کہ باندی والا باندی لے گا اور بائع سے بیع توڑنے کے لئے کہا جائے گا... شعبی سے سنا وہ فرماتے تھے خلاص کوئی چیز نہیں ہے۔ کسی نے کوئی ایسی چیز بیچی جو اس کی نہیں ہے تو وہ اس کے مالک کے لئے ہوگی۔اور مشتری بائع سے اتنا لے گا جتنا اس کو دیا ہے۔ اور بائع پر اس سے زیادہ لوٹانا ضروری نہیں ہے جتنا لیا ہے۔ اور نہ اس کے علاوہ لے سکتا ہے۔

Flag Counter