Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

390 - 457
]١٥٧٥[(٢٥) واذا استھلک المسلم خمر الذمی او خنزیرہ ضمن قیمتھا وان استھلکھما المسلم لمسلم لم یضمن۔

نہیں ہوتی ہے۔
]١٥٧٥[(٢٥)مسلمان نے ذمی کے شراب کو یا اس کے سور کو ہلاک کر دیا تو دونوں کی قیمت کا ضامن ہوگا ۔اور اگر ان دونوں کو مسلمان نے مسلمان کا ہلاک کیا تو ضامن نہیں ہوگا ۔
 وجہ  ذمی کے حق میں شراب اور سور قیمتی چیز ہیں اس لئے مسلمان نے جب ان کو ضائع کیا تو ان کا ضمان دینا ہوگا۔البتہ شراب ذواة الامثال ہے لیکن مسلمان اس کو خرید نہیں سکتا اس لئے اس کی بھی قیمت ادا کرے گا۔اور سور ذواة القیم ہے ہی اس لئے اس کی تو قیمت دے گا۔اور مسلمان نے مسلمان کے شراب یا سور کو ہلاک کردیا تو ان کا ضمان نہیں ہے ۔
 وجہ  کیونکہ مسلمان کے حق میں دونوں چیزیں قیمتی نہیں ہے۔اس لئے ان کو ہلاک کرنے کی وجہ سے اس پر کوئی ضمان لازم نہیں ہوگا(٢) حدیث میں ہے کہ ان چیزوں کو توڑا ہے بلکہ توڑنے کا حکم دیا ۔عن سلمة بن اکوع ان النبی ۖ رای نیرانا توقد یوم خیبر قال علام توقد ھذہ النیران قالوا علی الحمر الانیسة قال اکسروھا وھریقوھا (الف) (بخاری شریف ، باب ھل تکسر الدنان التی فیھا الخمر او تحرق الزقاق ص ٣٣٦ نمبر ٢٤٧٧) اس حدیث میں گدھے کے گوشت کو پھینکنے اور اس کے برتن کو توڑنے کا حکم دیا جس سے معلوم ہوا کہ ناجائز چیزوں کو توڑنے کا ضمان نہیں ہے (٣) عن انس بن مالک قال کنت اسقی ابا عبیدة وابا طلحة وابی بن کعب شرابا من فضیح وتمر فجائھم آت فقال ان الخمر قد حرمت فقال ابو طلحة یا انس قم الی ھذہ الجرار فاکسرھا قال انس فقمت الی مہراس لنا فضربتھا باسفلہ حتی تکسرت (ب) (سنن للبیہقی ، باب من اراق مالا یحل الانتفاع بہ من الخمر وغیرھا وکسروعائھا، ج سادس، ص ١٦٧،نمبر١١٥٥٢)اس اثر میں شراب کا برتن توڑا گیا اور کوئی ضمان لازم نہیں کیا اس لئے حرام چیزوں کو توڑنے سے ضمان لازم نہیں ہوگا۔

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے آگ دیکھی کہ خیبر کے دن جلائی جارہی ہے تو آپۖ نے فرمایا یہ آگ کس چیز کے لئے جلا رہے ہو ؟ کہا اہلی گدھے کے لئے ۔آپۖ نے فرمایا ہانڈی توڑدو اور گوشت بہادو (ب) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو عبیدہ،ابو طلحہ اور ابی بن کعب کو خشک کھجور اور تر کھجور کا شراب پلا رہا تھا ۔پس ایک آنے والے آئے اور کہا کہ شراب حرام ہو گیا ہے۔تو حضرت ابو طلحہ نے فرمایا اے انس ان مٹکوں کو جاؤ توڑ دو۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں کلہاڑی کے پاس گیا اور اس سے مٹکے کے نیچے مارا یہاں تک کہ اس کو توڑ دیا۔

Flag Counter