Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

386 - 457
ثوب ابیض ومثل السویق وسلمہ للغاصب وان شاء اخذھما وضمن ما زاد الصبغ والسمن فیھما]١٥٦٨[(١٨) ومن غصب عینا فغیَّبھا فضمنہ المالک قیمتھا ملکھا الغاصب بالقیمة۔

اور دونوں میں جو رنگنے اور گھی لگانے سے زیادہ ہوا ہے اس کا ضمان دیدے۔  
تشریح  یہ مسئلہ اس قاعدے پر ہے کہ چیز غصب کرکے اس میں صفات کی زیادتی کردی ،نقص نہیں کیا تو مالک کو دو اختیار ہیں یاتو اپنی اصل چیز کی قیمت لیکر غاصب کو چیز دیدے یا اپنی چیز غاصب سے لے لے اور صفات کی جو زیادتی ہوئی ہے اس کی قیمت غاصب کے حوالے کردے۔  وجہ  غاصب کی زیادتی کی قیمت غاصب کے حوالے کرنے کی دلیل یہ حدیث ہے  عن رافع بن خدیج قال قال رسول اللہ ۖ من زرع فی ارض قوم بغیر اذنھم فلیس لہ من الزرع شیء ولہ نفقتہ (الف) (ابو داؤد شریف، باب فی زرع الارض بغیر اذن صاحبھا ص ١٢٧ نمبر ٣٤٠٣ ترمذی شریف ، باب ماجاء فیمن زرع فی ارض قوم بغیر اذنھم ص ٢٥٣ نمبر ١٣٦٦) اس حدیث میں فرمایا کہ بغیر اجازت کے کھیتی کرنے والے کو اس کے کام کرنے کا خرچ ملے گا۔جس سے معلوم ہوا کہ کپڑے کو رنگنے والے اور ستو میں گھی ملانے والے کو رنگ اور گھی کی قیمت مل جائے گی۔  
اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ مالک اور غاصب دونوں کو نقصان نہ ہو بلکہ حتی الامکان دونوں کو ان کا حق مل جائے۔  
صورت مسئلہ  :  صورت مسئلہ یہ ہے کہ کپڑا غصب کرکے لال رنگ میں رنگ دیا ،یا ستو غصب کرکے اس میں گھی ملا دیا تو مالک کو دو اختیار ہیں۔ یا سفید کپڑا اور خالص ستو کی قیمت لیکر غاصب کو کپڑا اور ستو حوالہ کردے ۔اور دوسری صورت یہ ہے کہ رنگ اور گھی کی قیمت غاصب کو دیدے اور اپنا کپڑا اور ستو مالک سے واپس لے لے۔  
لغت  صبغ  :  رنگا۔  سویق  :  ستو۔  لت  :  ملایا،لپیٹا۔  سمن  :  گھی۔
]١٥٦٨[(١٨)کسی نے عین چیز کو غصب کیا اور اس کو غائب کردیا اور مالک نے اس کی قیمت کا ضامن بنایا تو غاصب اس کی قیمت دے کر مالک ہو جائے گا۔  
تشریح  کسی نے کسی کی چیز کو غصب کیا اور اس کو غائب کر دیا اور مالک نے اس کی قیمت وصول کر لی تو غاصب اس چیز کا مالک بن جائے گا۔  وجہ  اگر چہ غصب سبب محذور ہے لیکن قیمت ادا کرنے کی وجہ سے مالک کی ملکیت سے غاصب کی ملکیت کی طرف منتقل ہو سکتی ہے۔کیونکہ قیمت جو ادا کر دیا (٢) پیالے والی حدیث میں صحیح پیالہ دینے کے بعد ٹوٹا ہوا پیالہ رکھ لیا ۔جس سے معلوم ہوا کہ آپ پیالے کا مالک بن گئے۔فدفع القصعة الصحیحة وحبس المکسورة (ب) (بخاری شریف ،نمبر ٢٤٨١)  
فائدہ  امام شافعی فرماتے ہیں کہ غصب سبب محذور ہے اس لئے قیمت ادا کرنے کے بعد بھی وہ اس چیز کا مالک نہیں بنے گا۔

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے فرمایا کسی نے بغیر اجازت کے کسی کی زمین میں کھیتی کی تو اس کھیتی میں کچھ نہیں ملے گا اور اس کو اس کا خرچ ملے گا(ب) آپۖ نے صحیح پیالہ دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ رکھ لیا۔

Flag Counter