تنقص بقلع ذلک فللمالک ان یضمن لہ قیمة البناء والغرس مقلوعا]١٥٦٧[(١٧) ومن غصب ثوبا فصبغہ احمر او سویقا فلتہ بسمن فصاحبہ بالخیار ان شاء ضمنہ قیمة
گا کہ اپنا پودا اکھاڑ لو اور عمارت منہدم کر لو اور زمین مکمل خالی کرکے مالک کے حوالے کرو۔کیونکہ تم نے خالی زمین ہی مالک سے لی تھی اس لئے جیسی لی تھی ویسی ہی بحال کرکے زمین مالک کے حوالے کرو۔ اور اگر دیوار توڑنے میں یا درخت کاٹنے میں زمین کا نقصان ہو تو کٹے ہوئے درخت اور ٹوٹی ہوئی عمارت کی قیمت لگا کر غاصب کو دی جائے گی جو بہت کم ہوگی۔
وجہ کیونکہ اس کے ذمے درخت کو کاٹنا اور عمارت کو توڑنا ضروری تھا اس لئے کہ اس نے مالک کی بغیر اجازت کے درخت لگایا تھا اور عمارت تعمیر کی تھی(٢) حدیث میں اس کا ثبوت ہے عن سعید بن زید عن النبی ۖ قال من احیا ارضا میتة فہی لہ ولیس لعرق ظالم حق (الف) (ابو داؤد شریف، باب فی احیاء الموات ج ثانی ص ٨١ نمبر ٣٠٧٣ ترمذی شریف، باب ما ذکر فی احیاء ارض الموات ص ٢٥٦ نمبر ١٣٧٨) اس حدیث میں لیس لعرق ظالم حق کا ترجمہ ہے کہ کسی نے زمین غصب کرکے پودا بو دیا تو اس کو اس کا حق نہیں ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ اوپر کے مسئلے میں غاصب نے پودا بو دیا یا عمارت بنا دی تو اس کو توڑ کر واپس کرنا ہوگا (٣) دوسری حدیث میں ہے عن رافع بن خدیج قال قال رسول اللہ ۖ انہ من زرع فی ارض قوم بغیر اذنھم فلیس لی من الزرع شیء ولہ نفقتہ(ب)(ابو داؤد شریف ، باب فی زرع الارض بغیر اذن صاحبھا ص ١٢٧ نمبر ٣٤٠٣ ترمذی شریف ، باب ماجاء فیمن زرع فی ارض قوم بغیر اذنھم ص ٢٥٣ نمبر ١٣٦٦) اس حدیث سے پتہ چلا کہ غصب کرکے کھیتی کرنے والے کو کچھ نہیں ملے گا صرف اس کی مزدوری ملے گی (٤) زمین خالی کرکے سپرد کرنے کی دلیل یہ حدیث ہے عن یحیی بن عروة عن ابیہ ... ان رجلین اختصما الی رسول اللہ ۖ غرس احدھما نخلا فی ارض الآخر فقضی لصاحب الارض بارضہ وامر صاحب النخل ان یخرج نخلہ منھا قال فلقد رأیتھا وانھا لتضرب اصولھا بالفؤس وانھا لنخل عم حتی اخرجت منھا (ج) (ابو داؤد شریف، باب فی احیاء الموات، ص ٨١ نمبر ٣٠٧٤ سنن للبیہقی، باب من بنی او غرس فی ارض غیرہ ،ج سادس ،ص ١٥٠،نمبر١١٤٨٨)اس حدیث میں کھجور کے درخت کو اکھاڑ کر زمین خالی کرکے مالک کو سپرد کرنے کے کو کہا ہے۔
لغت غرس : پودا لگانا، قلع : اکھیڑنا۔
]١٥٦٧[(١٧)کسی نے کپڑ ا غصب کیا اور اس کو سرخ رنگ میں رنگ دیا یا ستو غصب کیا اور اس میں گھی ملا دیا تو اس کے مالک کو اختیار ہے اگر چاہے تو اس کو سفید کپڑے کا ضامن بنائے اور ستو کے مثل کا ضامن بنائے اور ان کو غاصب کو سپرد کردے ۔اور اگر چاہے تو دونوں کو لے لے
حاشیہ : (الف)آپۖ نے فرمایا کسی نے مردہ زمین کو زندہ کیا یعنی آباد کیا تو وہ زمین اسی کی ہے۔لیکن ظالم کی جڑ کے لئے کوئی حق نہیں ہے(ب) آپۖ نے فرمایا کسی نے دوسرے کی زمین میں بغیر اس کی اجازت کے کھیتی کی تو اس کو کھیتی میں سے کچھ نہیں ملے گی ۔اس کو کھیتی کرنے کا خرچ ملے گا (ج)دو آدمی حضورۖ کے پاس جھگڑا لے کر گئے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کی زمین میں کھجور کا درخت بویا تھا۔تو آپۖ نے زمین والے کے لئے زمین کا فیصلہ کیا اور کھجور والے کو حکم دیا کہ اپنے درخت کو اکھاڑ لے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اس کی جڑوں میں کلہاڑی مار رہے ہیں اور وہ بڑا درخت تھا یہاں تک کہ اس درخت کو نکال دیا۔