Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

384 - 457
ملک مالکھا عنھا عند ابی حنیفة رحمہ اللہ]١٥٦٥[(١٥) ومن غصب ساجة فبنی علیھا زال ملک مالکھا عنھا ولزم الغاصب قیمتھا]١٥٦٦[(١٦) ومن غصب ارضا فغرس فیھا او بنی قیل لہ اقلع الغرس والبناء وردھا الی مالکھا فارغة فان کانت الارض 

ابو حنیفہ کی رائے ہے۔
فائدہ  صاحبین فرماتے ہیں کہ سونے اور چاندی میں بھی ایسی تبدیلی کردے کہ ان کا نام بدل جائے تو اس سے مالک کی ملکیت زائل ہو جائے گی اور غاصب کی ملکیت ہو جائے گی۔  
وجہ  اس لئے کہ اب نہ اس کا وہ نام باقی رہا اور نہ اس کی وہ منفعت باقی رہی۔   
اصول  سونے اور چاندی کے بھی نام بدل جائے تو مالک کی ملکیت ختم ہو جائے گی اور غاصب کی ملکیت ہو جائے گی۔  
لغت  ضرب  :  ڈھال دیا،مارا۔
]١٥٦٥[(١٥)کسی نے شہتیر غصب کیا اور اس پر عمارت بنالی تو مالک کی ملکیت اس سے زائل ہو جائے گی اور غاصب کو اس کی قیمت لازم ہوگی۔  
تشریح  یہ مسئلہ اس قاعدے پر ہے کہ مغصوب چیز نہ ہلاک ہوئی ہے اور نہ اس میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے البتہ وہ غاصب کے مال کے ساتھ چپک گئی ہے کہ اب اگر مغصوب چیز کو غاصب کے مال سے الگ کرتے ہیں تو غاصب کا بہت بڑا نقصان ہو جاتا ہے۔اس لئے اس صورت میں بھی مالک کی ملکیت زائل ہو جائے گی اور غاصب کی ملکیت ہو جائے گی۔  
وجہ  مالک کو اس کی چیز واپس دیتے ہیں تو غاصب کی دیوار گر جائے گی اور اس کا نقصان ہوگا اور مالک کو اس کی قیمت دلوائیں تو اس کا نقصان نہیں ہے بلکہ شہتیر کی مکافات ہو جائے گی اس لئے شہتیر کی قیمت دلوانا بہتر ہے ۔
 اصول  ممکن ہوتو غاصب کو بھی نقصان سے بچانے کی کوشش کی جائے گی۔
فائدہ  امام شافعی فر ماتے ہیں کہ شہتیر مالک کی ہے اور وہ ہلاک بھی نہیں ہوئی ہے اور نہ اس کا نام بدلا ہے اس لئے مالک کی ملکیت زائل نہیں ہوگی اس لئے وہ واپس لینا چاہے تو غاصب کی دیوار توڑوا کر لے سکتا ہے۔  
لغت  ساجة  :  شہتیر،درمیان کی وہ موٹی اور لمبی لکڑی جس پر چھپر کھڑی کرتے ہیں۔
]١٥٦٦[(١٦)کسی نے زمین غصب کی اور اس میں پودا بو دیا یا عمارت بنا دی تو اس سے کہا جائے گا کہ پودے کو اکھاڑ دے اور عمارت توڑ دو اور خالی کرکے زمین کو مالک کی طرف واپس کردو۔پس اگر زمین میں نقص ہوتا ہو ان کے اکھاڑنے سے تو مالک کے لئے جائز ہے کہ اس کو اکھڑی ہوئی عمارت اور پودوں کی قیمت کا ضامن بنائے۔  
تشریح  کسی نے کسی کی زمین غصب کر لی اور اس میں پودا بو دیا یا عمارت بنا لی تو چونکہ زمین غاصب کی نہیں ہے اس لئے غاصب سے کہا جائے 

Flag Counter