وضمنھا ولا یحل لہ الانتفاع بھا حتی یؤدی بدلھا ]١٥٦٣[(١٣) وھذا کمن غصب شاة فذبحھا وشواھا او طبخھا او غصب حنطة فطحنھا او حدیدا فاتخذہ سیفا او صفرا فعملہ آنیة]١٥٦٤[(١٤) وان غصب فضة او ذھبا فضربھا دراہم او دنانیرا وآنیة لم یزل
شریف ، باب فی اجتناب الشبہات ج ثانی ص ١١٦ نمبر ٣٣٣٢ دار قطنی ، کتاب الاشربة وغیرھا ج رابع ص ١٨٩ نمبر ٤٧١٨) اس حدیث میں بکری دعوت کرنے والی عورت کی ملکیت ہو گئی اسی لئے اس کو واپس نہیں کیا۔لیکن استعمال کرنا اچھا نہیں تھا اس لئے آپۖ نے نوش نہیں فرمایا اصول شیء مغصوب کی ہلاکت سے غاصب مالک ہو جائے گا چاہے ابھی بدلہ نہ دیا ہو۔
فائدہ امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ غاصب مالک ہو جائے گا اور ضمان دینے سے پہلے اس سے استفادہ بھی کر سکتا ہے۔
وجہ کیونکہ غاصب اس کا مالک ہو گیا ۔اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ مغصوب کے ضمان دینے سے پہلے غاصب اس چیز کا مالک نہیں ہوگا ۔
وجہ کیونکہ مالک دینے پر راضی نہیں ہوا ہے۔ اور نہ ابھی اس کا بدلہ ادا کیا ہے۔
لغت المغصوب منہ : اس سے مراد مالک ہے کیونکہ اسی سے چیز غصب کی ہے۔
]١٥٦٣[(١٣)یہ جیسے کہ بکری غصب کرکے اس کو ذبح کر لیااور اس کو بھون لیا یا اس کو پکا لیا یا گیہوں غصب کیا اور اس کو پیس لیا یا لوہا غصب کیا اور اس کو تلوار بنا لیا یا پیتل غصب کیا اور اس کو برتن بنا لیا۔
تشریح اس عبارت میں شیء مغصوب کے نام بدل جانے اور اس کے اعظم منافع کے ختم ہو جانے کی چار مثالیں دی ہیں۔ اور اوپر کے اصول پر متفرع کی ہیں۔ مثلا بکری غصب کی اور اس کو ذبح کرکے بھون لیا یا پکالیا تو اس کا نام اب بکری نہیں رہا بلکہ سالن اور گوشت ہو گیا تو چونکہ نام بدل گیا اس لئے مالک کی ملکیت زائل ہو گئی اور غاصب اس کا مالک بن گیا۔یا گیہوں غصب کیا اور پیس کر آٹا بنا دیا یا لوہا غصب کرکے تلوار بنا لیا یا پیتل غصب کرکے اس کو برتن بنا لیا تو ان کے نام زائل ہو گئے اور اعظم منافع زائل ہو گئے اور اب دوسرے منافع ہو گئے اس لئے غاصب مالک ہو گیا۔ البتہ اس کا بدلہ دیئے بغیر اس کو استعمال کرنا اچھا نہیں ہے۔
وجہ اوپر گزر گئی ہے۔
لغت شواھا : بھون لیا، طحن : پیس دیا، صفر : پیتل، آنیة : برتن۔
]١٥٦٤[(١٤) اور اگر چاندی یا سونا غصب کیا اور ان کو درہم یا دینار ڈھال لیا یا برتن بنالیا تو ان سے مالک کی ملکیت ختم نہیں ہوگی امام ابو حنیفہ کے نزدیک۔
تشریح اصل قاعدہ یہ ہے کہ سونا اور چاندی چاہے ڈلی کی حالت میں ہوں چاہے سکوں کی حالت میں ہوں اور چاہے برتن کی حالت میں ہوں پھر بھی وہ سونا اور چاندی ہی ہیں اور ان کو ثمن ہی گنے جائیںگے۔ اس لئے سونا چاندی غصب کرکے غاصب ان کو کسی حال میں بھی ڈھال لے ان کا اصل نام ثمن باقی ہے اور اعظم منافع یعنی ثمنیت باقی ہے اس لئے مالک کی ملکیت ختم نہیں ہوگی۔ اور غاصب ان کا مالک نہیں ہوگا۔ یہ امام