فلمالکہ ان یضمنہ جمیع قیمتہ]١٥٦٢[ (١٢)واذا تغیرت العین المغصوبة بفعل الغاصب حتی زال اسمھا واعظم منافعھا زال ملک المغصوب منہ عنھا وملکھا الغاصب
وجہ اور حدیث اوپر گزر گئی (بخاری شریف ، نمبر ٢٤٨٢)
لغت خرق : پھاڑا، یسیرا : تھوڑا۔
]١٥٦٢[(١٢) اگر بدل جائے عین مغصوب غاصب کے فعل سے یہاں تک کہ اس کا نام زائل ہو جائے یا اعلی منافع ختم ہو جائے تو مغصوب منہ کی ملک اس سے زائل ہو جائے گی اور غاصب اس کا مالک ہو جائے گا۔لیکن اس کے لئے اس چیز سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے یہاں تک کہ مغصوب کا بدلہ ادا کردے ۔
تشریح اس عبارت میں کئی باتیں بیان کی ہیں۔ ایک تو یہ کہ غاصب نے مغصوب چیز کے ساتھ ایسی حرکت کی جس سے مغصوب چیز موجود تو ہے لیکن اب اس کا نام بدل کر کچھ اور ہو گیا مثلا گیہوں تھا اس کو غصب کرکے پیس لیا اب اس کا نام آٹا ہوگیا۔پہلا نام گیہوں باقی نہیں رہا۔البتہ معنوی طور پر گیہوں موجود ہے ۔اسی طرح گیہوں کی منفعت بونا ختم ہو گئی اب آٹے کی منفعت روٹی پکانا ہو گئی۔ایسی صورت میں مصنف فرماتے ہیں کہ چیز کا نام زائل ہوتے ہی مالک کی ملکیت اس سے ختم ہو جائے گی اور غاصب اس کا مالک ہو جائے گا۔ لیکن جب تک اس کا ضمان ادا نہ کردے غاصب کے لئے اس سے فائدہ اٹھانا حلال نہیں ہے۔
وجہ جب مغصوب چیز کا نام بدل گیا یا منافع ختم ہو گئے تو اب غاصب کے ضمان میں داخل ہو گئی۔اس لئے اب غاصب اس کا مالک ہو جائے گا (٢)ایک حدیث میں اس کا اشارہ ہے۔آپۖ ایک صحابی کو دفن کرکے قبرستان سے تشریف لائے ۔ایک عورت نے آپۖ کی دعوت کی اور بکری ایک پڑوسن کے پاس سے لائی۔ پڑوسن کا شوہر گھر میں نہیں تھا جس کی وجہ سے بغیر اس کی اجازت کے لائی اور ذبح کرکے حضورۖ اور صحابہ کی دعوت کی تو آپۖ نے نوش نہیں فرمایا اور فرمایا کہ اس کو قیدیوں کو کھلادو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بکری کو ذبح کرنے کے بعد دعوت کرنے والی عورت مالک ہو گئی اس لئے بکری کو مالک کی طرف واپس نہیں کیا۔لیکن چونکہ ابھی اس کا عوض واپس نہیں کیا تھا اس لئے اس کا استعمال کرنا حلال نہیں تھا۔ اس لئے آپۖ نے نہیں کھایا بلکہ قیدیوں کو کھلا دیا۔ حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔اخبرنا عاصم بن کلیب عن ابیہ عن رجل من الانصار قال خرجنا مع رسول اللہ ۖ فی جنازة ... ثم قال اجد لحم شاة اخذت بغیر اذن اھلھا فارسلت المرأة قالت یا رسول اللہ انی ارسلت الی البقیع یشتری لی شاة فلم اجد فارسلت الی جار لی قد اشتری شاة ان ارسل الی بھا بثمنھا فلم یوجد فارسلت الی امرأتہ فارسلت الی بھا فقال رسول اللہ ۖ اطعمیہ الاساری (الف) (ابو داؤد
حاشیہ : (الف) انصار کے راوی نے فرمایا کہ ہم حضور کے ساتھ جنازے میں نکلے ... پھر آپۖ نے فرمایا ایسا لگتا ہے کہ بکری کا گوشت بغیر اس کے مالک کی اجازت سے لیا ہے۔پس دعوت کرنے والی عورت کو بلایا۔کہنے لگی اے اللہ کے رسول میں نے مقام بقیع کی طرف بکری خریدنے کے لئے بھیجا پس نہیں پایا۔پس اپنے پڑوسی کو خبر بھیجی جس نے بکری خریدی تھی کہ مجھ کو قیمت کے بدلے بکری بھیج دے پس وہ نہیں ملے۔پھر میں نے اس کی بیوی کو خبر بھیجی تو انہوں نے بکری بھیج دی تو حضورۖ نے فرمایا قیدیوں کو یہ گوشت کھلا دو۔