فی یدہ فعلیہ ضمان النقصان]١٥٥٩[(٩) ومن ذبح شاة غیرہ بغیر امرہ فمالکھا بالخیار ان شاء ضمنہ قیمتھا وسلمھا الیہ وان شاء صمنہ نقصانھا]١٥٦٠[(١٠) ومن خرق ثوب غیرہ خرقا یسیرا ضمن نقصانہ]١٥٦١[(١١) وان خرق خرقا کثیرا یبطل عامة منافعہ
]١٥٥٩[(٩)کسی نے دوسرے کی بکری بغیر اس کے حکم کے ذبح کردی تو بکری کے مالک کو اختیار ہے چاہے تو بکری کی قیمت کا ضامن بنادے اور بکری ذبح کرنے والے کو سپرد کردے ۔اور چاہے تو اس کے نقصان کا ضامن بنادے۔
تشریح بکری ذبح کرنے کے بعد اس کی دو حیثیتیں ہو جاتی ہیں ۔ایک اعتبار سے وہ ہلاک ہو گئی کیونکہ وہ زندہ نہیں رہی۔اور دوسرے اعتبار سے اس کا گوشت کھانے کے قابل ہے اس لئے مکمل ہلاک نہیں ہوئی۔بلکہ اس میں نقصان ہوا ۔اس لئے مالک کو دو اختیار ہوں گے چاہے تو بکری کو ہلاک شمار کرکے پوری بکری کی قیمت غاصب سے وصول کرے اور ذبح شدہ بکری غاصب کو دیدے۔اور دوسری صورت یہ ہے کہ بکری کا گوشت رکھ لے اور زندہ اور ذبح شدہ بکری کی قمیت میں جو فرق ہے وہ ذبح کرنے والے سے وصول کرے ۔
اصول جہاں ہلاکت اور نقصان دونوں حیثیتیں ہوں وہاں دونوں کی رعایت کی جاسکتی ہے۔
نوٹ اگر جانور غیر ماکول اللحم ہو اور ذبح کے بعد کسی قیمت کے نہ رہے تو وہ ہلاک شمار کیا جائے گا اور غاصب کو پوری قیمت ادا کرنی ہوگی۔ وجہ حدیث میں ہے کہ جریج کا گرجا توڑا تو لوگوں نے ان کا گرجا نیا بنا دیا۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ۖ کان رجل فی بنی اسرائیل یقال لہ جریج ... فاتوہ وکسروا صومعتہ فانزلوہ وسبوہ فتوضأ وصلی ثم اتی الغلام فقال من ابوک یا غلام ؟ قال الراعی قالوا نبنی صومعتک من ذھب ، قال لا الا من الطین (الف) (بخاری شریف ، باب اذا ھدم حائطا فلیبین مثلہ ص ٣٣٧ نمبر ٢٤٨٢) اس حدیث میں گرجا منہدم کردیا تو اس کے مثل بنا دیا۔
]١٥٦٠[(١٠)کسی نے دوسرے کا کپڑا تھوڑا سا پھاڑا تو اس کے نقصان کا ضامن ہوگا۔
وجہ چونکہ تھوڑا سا پھاڑا ہے اس لئے وہ ابھی قابل استفادہ ہے اس لئے کپڑا مکمل ہلاک نہیں ہوا۔ بلکہ اس میں نقصان ہوا ۔اس لئے مالک پھاڑنے والے سے نقصان کا ضمان لے سکتا ہے۔
]١٥٦١[(١١) اور اگر بہت زہادہ پھاڑ دیا جس سے اکثر منافع ختم ہو گئے تو اس کے مالک کے لئے جائز ہے کہ اس کی پوری قیمت کا ضامن بنادے۔
تشریح کپڑے کو اتنا زیادہ پھاڑا کہ وہ کسی کام کا نہیں رہا تو اب یہ نقصان نہیں ہے بلکہ کپڑے کی ہلاکت ہے اس لئے مالک کو اس کی پوری قیمت لینے کا اختیار ہے۔
حاشیہ : (الف) آپۖ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک آدمی کا نام جریج تھا ... لوگوں نے ان کا گرجا توڑ دیا ار ان کو نکالا اور گالیاں دی۔جریج نے وضو کیا اور نماز پڑھی پھر لڑکے کے پاس آکر پوچھا تمہارا باپ کون ہے ؟ کہا چرواہا۔ لوگوں نے کہا ہم لوگ سونے کا گرجا بنا دیںگے ۔جریج نے کہا نہیں ، مٹی کا بنا دو۔