]١٥٥٦[(٦) وما نقص منہ بفعلہ او سکناہ ضمنہ فی قولھم جمیعا]١٥٥٧[ (٧)واذا ھلک المغصوب فی ید الغاصب بفعلہ او بغیر فعلہ فعلیہ ضمانہ]١٥٥٨[ (٨)وان نقص
زمین کو ناحق لے لیا تو قیامت کے دن تک سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔جس سے معلوم ہوا کہ زمین کو لینا اور غصب کرنا ہوتا ہے ۔اس لئے غصب کرنے کے بعد ہلاک ہو جائے تو اس کا ضمان غاصب پر لازم ہوگا۔
اصول امام محمد کے نزدیک غصب کے لئے چیز کا منتقل ہونا ضروری نہیں ہے اس لئے زمین بھی مغصوب ہو سکتی ہے۔
لغت : عقار : زمین
]١٥٥٦[(٦)اور جو نقص آجائے غاصب کے فعل سے اور اس کی رہائش سے تو سب کے قول میں وہ ضامن ہوگا۔
تشریح غاصب کے فعل کی وجہ سے یا غاصب کے رہنے کی وجہ سے زمین میں نقص آ گیا تو اس نقص کا ضمان تینوں اماموں کے نزدیک غاصب پر لازم ہوگا۔
وجہ نقص کیا ہے اس لئے اس کا ضمان لازم ہوگا (٢)اوپر حدیث میں گزرا کہ پیالہ توڑ دیا تو اس کے بدلے میں صحیح پیالہ آپۖ نے دیا۔عن انس ... فدفع القصعة الصحیحة وحبس المکسورة (الف)(بخاری شریف ، باب اذا کسر قصعة او شیئا لغیرہ ص ٣٣٧ نمبر ٢٤٨١) جس سے معلوم ہوا کہ زمین یا گھر میں جو نقصان ہوا ہو اس کا ضمان غاصب پر لازم ہوگا۔
]١٥٥٧[(٧) اگر ہلاک ہو جائے مغصوب چیز غاصب کے ہاتھ میں غاصب کے فعل سے یا بغیر اس کے فعل سے تو اس کے اوپر اس کا ضمان ہے۔
تشریح غاصب کے قبضے میں مغصوب چیز تھی اور اس دوران مغصوب چیز غاصب کی حرکت کی وجہ سے یا کسی اور کی حرکت کی وجہ سے ہلاک ہو گئی تو غاصب پر اس کا ضمان لازم ہوگا۔
وجہ چونکہ مغصوب چیز غاصب کے حوالے ہے اس لئے چاہے وہ ہلاک کرے یا اس کے قبضے میں رہتے ہوئے کسی اور نے ہلاک کی ،دونوں صورتوں میں غاصب ہی ضمان کا ذمہ دار ہوگا (٢) پیالے والی حدیث میں حضرت عائشہ نے پیالہ توڑا تھا لیکن حضور نے اس کا بدلہ دیا ۔کیونکہ حضورکی ذمہ داری میں پیالہ تھا ۔جس سے معلوم ہوا کہ غاصب کی ذمہ داری میں کوئی بھی ہلاک کرے تو غاصب ہی ضمان کا ذمہ دار ہوگا۔
]١٥٥٨[(٨)اور اگر اس کے قبضے میں نقصان ہوجائے تو اس پر نقصان کا ضمان ہوگا۔
تشریح غاصب کے قبضے میں مغصوب چیز تھی تو اس دوران مغصوب چیز ہلاک تو نہیں ہوئی البتہ اس میں کچھ نقصان ہو گیا تو نقصان کا ضمان غاصب پر لازم ہوگا۔
وجہ اوپر گزر چکی ہے اور پیالے والی حدیث بھی اوپر گزر گئی۔
حاشیہ : (الف) آپۖ نے صحیح پیالہ دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ رکھ لیا۔