ببدلھا]١٥٥٤[ (٤)والغصب فیما ینقل ویحول]١٥٥٥[(٥) واذا غصب عقارا فھلک فی یدہ لم یضمنہ عند ابی حنیفة وابی یوسف رحمھما اللہ وقال محمد یضمنہ۔
اصول حقیقت حال کو ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔
لغت حبس : کسی چیز کو ظاہر کرنے کے لئے جو وقتی طور پر قید کرتے ہیں اس کو حبس کہتے ہیں۔
]١٥٥٤[(٤) اور غصب ہے اس چیز میں جو منقول ہوتی ہو اور تبدیل ہوتی ہو۔
تشریح جو چیز منتقل ہوتی ہووہ غصب ہو سکتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور جائداد جو منتقل نہیں ہو سکتی اس پر کوئی غصب کرے تو اس کو غصب شمار نہیں کیا جائے گا۔
وجہ اس پر مکمل قبضہ ہو جاتا ہے ۔اور اس کو منتقل کرکے اپنی ملکیت میں کر سکتا ہے۔ جبکہ زمین اور جائداد کو منتقل کرکے کہاں لے جاسکے گا ؟ اس لئے اس پر غصب کا اطلاق نہیں ہوگا۔
]١٥٥٥[(٥) اور اگر زمین غصب کی اور اس کے ہاتھ میں ہلاک ہو گئی تو امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک ضامن نہیں ہوگا اور امام محمد نے فرمایا ضامن ہوگا۔
تشریح امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک زمین پر قبضہ کرنے سے غصب کا اطلاق نہیں ہوتا ہے اس لئے اگر زمین ہلاک ہوجائے تو غاصب پر ضمان نہیں ہے۔
وجہ زمین کو اٹھا کر کہاں لے جائے گا ؟ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ زمین کو نقصان دے گااور اس کو خراب کرے گا۔ یا مکان ہے تو اس کو خراب کرے گا۔ تو اس نقصان کا ضمان غاصب پر لازم ہو جائے گا لیکن غصب کا اطلاق اس پر نہیں ہوگا (٢) ان کی دلیل یہ حدیث ہے عن سعید بن زید عن النبی ۖ قال من احیا ارضا میتة فھی لہ ولیس لعرق ظالم حق (الف) (ابو داؤد شریف ، باب فی احیاء الموات ص نمبر ٣٠٧٣ ترمذی شریف ، باب ما ذکر فی احیاء ارض الموات ص نمبر١٣٧٨) اس میں عرق ظالم کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی زمین غصب کرکے اس میں پودا بو دیا تو اس کو کوئی حق نہیں ملے گا یعنی غصب شمار نہیں ہوگا۔
فائدہ امام محمد فرماتے ہیں کہ زمین پر بھی غصب کرے تو اس پر غصب کا اطلاق ہوتا ہے۔
وجہ کیونہ اس کے قبضے کے بعد مالک بے دخلی ہوجاتا ہے۔اور اسی بے دخل کا نام غصب ہے۔چاہے اس کو منتقل کرکے دوسری جگہ نہ لے جا سکتا ہو(٢) حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ زمین پر قبضہ کرنے سے غصب کا اطلاق ہوگا۔حدیث یہ ہے عن سالم عن ابیہ انہ قال قال النبی ۖ من اخذ من الارض شیئا بغیر حقہ خسف بہ یوم القیامة الی سبع ارضین (ب) (بخاری شریف، باب اثم من ظلم شیئا من الارض ص نمبر ٢٤٥٤ مسلم شریف ، باب تحریم الظلم وغصب الارض وغیرھا ص نمبر ١٦١٠) اس حدیث میں ہے کہ کسی نے کسی کی
حاشیہ : (الف) آپۖ نے فرمایا جس نے بنجر زمین کو آباد کیا تو وہ اسی کی ہے اور ظالم کی جڑ کے لئے کوئی حق نہیں یعنی غصب کرکے آباد کیا تو اس کو وہ زمیں نہیں ملے گی (ب) آپۖ نے فرمایا کسی نے زمین میں سے کچھ ناحق لیا تو قیامت تک سات زمین تک دھنسایا جائے گا۔