لا مثل لہ فعلیہ قیمتہ]١٥٥٢[(٢) وعلی الغاصب رد العین المغصوبة]١٥٥٣[(٣) فان ادعی ھلاکھا حبسہ الحاکم حتی یعلم انھا لو کانت باقیة لاظھرھا ثم قضی علیہ
القصعة فضمھا وجعل فیھا الطعام وقال کلوا وحبس الرسول والقصعة حتی فرغوا فدفع القصعة الصحیحة وحبس
المکسورة (الف)(بخاری شریف ، باب اذا کسر قصعة او شیئا لغیرھا ص٣٣٧ نمبر ٢٤٨١) اس حدیث میں پیالے کے مثل حضورۖ نے پیالہ دیا جس سے مثل دینا واجب ہوا۔
اور اگر مغصوب چیز کا مثل نہ ہو تو اس کی قیمت واجب ہوگی۔
وجہ جب مثل نہیں ہے تو آخر قیمت دے کر ہی مکافات کی جائے(٢) قیمت دینے کا ثبوت اس حدیث میں ہے عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال من اعتق شقیصا من مملوکہ فعلیہ خلاصہ فی مالہ فان لم یکن لہ مال قوم المملوک قیمة عدل ثم استسعی غیر مشقوق علیہ (ب) (بخاری شریف ، باب تقویم الاشیاء بین الشرکاء بقیمة عدل، ص ٣٣٩ نمبر٢٤٩٢ ،کتاب الشرکة ) اس حدیث میں غلام کی قیمت لگا کر فیصلہ کیا گیا ہے جس سے مغصوب چیز کی قیمت دینے کا ثبوت ہوا۔
]١٥٥٢[(٢)اور غاصب پر مغصوب چیز کے عین کو واپس کرنا واجب ہے۔
تشریح عین مغصوب موجود ہو تو عین مغصوب کو واپس کرنا واجب ہے۔
وجہ اس لئے کہ وہی چیز مالک سے غصب کی ہے اس لئے اسی کو واپس کرنا ضروری ہے۔ اس کا مثل یا اس کی قیمت کو واپس کرنا تو مجبوری کے درجے میں ہے(٢) اوپر حدیث گزر چکی ہے جس میں عین چیز کو واپس کرنے کا حکم تھا۔ فمن اخذ عصا اخیہ فلیردھا الیہ (ترمذی شریف ،نمبر ٢١٦٠ ابو داؤد شریف ، نمبر ٥٠٠٣)
]١٥٥٣[(٣) اگر غاصب نے دعوی کیا مغصوب چیز کے ہلاک ہونے کا تو حاکم اس کو قید کرے یہاں تک کہ یقین ہو جائے کہ اگر وہ باقی ہو تی تو ضرور ظاہر کر دیتا پھر اس پر فیصلہ کیا جائے گااس کے بدلے کا۔
تشریح غاصب یہ دعوی کرتا ہے کہ مغصوب چیز ہلاک ہو گئی تو حاکم فوری طور پر اس کی بات نہ مانے بلکہ اس پر علامت طلب کرے اور وہ نہ ہو تو اس کو قید کرے۔اور اتنی دیر قید میں رکھے کہ اگر واقعی وہ چیز غاصب کے پاس موجود ہوتی تو وہ اس کو ظاہر کر دیتا۔لیکن ابھی تک ظاہر نہیں کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز واقعی ہلاک ہو گئی ہے۔ اب اس کے مثل یا قیمت کا حاکم فیصلہ کرے۔
وجہ عین چیز واپس کرنا اصل ہے اس لئے اس کو ظاہر کرنے اور واپس دلوانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔
حاشیہ : (الف) آپۖ بعض بیوی کے پاس تھے (حضرت عائشہ کے پاس) ام المؤمنین میں سے کسی ایک نے خادم کے ساتھ پیالہ بھیجا اس میں کھانا تھا۔پس اس کے ہاتھ کو مارا پس پیالہ ٹوٹ گیا۔ پس آپۖ نے اس کو ملایا اور اس میں کھانا رکھا اور آپۖ نے فرمایا کھاؤ۔ اور حضورۖ نے قاصد اور پیالے کو روکے رکھا یہاں تک کہ کھانے سے فارغ ہو گئے پھر صحیح پیالہ دیا اور ٹوٹے ہوئے پیالے کو رکھ لیا(ب) کسی نے غلام کے حصے کو آزاد کیا تو اس پر اپنا مال دیکر چھڑانا لازم ہے۔ پس اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام کی قیمت عدل لگائی جائے گی۔پھر غلام پر مشقت نہ ہو اس طرح اس سے سعی کرائی جائے گی۔