لنفسہ او جعل الولایة الیہ جاز عند ابی یوسف رحمہ اللہ وقال محمد لا یجوز]١٥٤٨[ (١٩) واذا بنی مسجدا لم یزل ملکہ عنہ حتی یفرزہ عن ملکہ بطریقہ ویأذن للناس بالصلوة فیہ فاذا صلی فیہ واحد زال ملکہ عنہ عند ابی حنیفة رحمہ اللہ ]١٥٤٩[(٢٠) وقال ابو یوسف یزول ملکہ عنہ بقولہ جعلت مسجدا]١٥٥٠[ (٢١) ومن بنی سقایة
ہیں۔اس لئے خود وقف کی نگرانی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
امام محمد فرماتے ہیںکہ واقف اپنے استعمال کے لئے شرط لگائے تو نہیں لگا سکتا۔
وجہ وقف کے بعد یہ مال اللہ کا ہو گیا اس لئے اب اپنے استعمال کرنے کی شرط لگانا صحیح نہیں ہے(٢) حدیث میں صدقہ کو واپس کرنے سے منع کیا ہے۔اور وقف کا مال ایک قسم کا صدقہ ہے اس لئے اس کو دوبارہ استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔حدیث میں ہے۔ ان عمر حمل علی فرس لہ فی سبیل اللہ اعطاھا رسول اللہ فحمل علیھا رجلا فاخبر عمر انہ قد وقفھا یبیعھا فسأل رسول اللہ ان یبتاعھا فقال لا تبتاعھا ولا ترجعن فی صدقتک (بخاری شریف، باب وقف الدواب والکراع والعروض والصامت ص ٣٨٩ نمبر ٢٧٧٥) اس حدیث میں صدقہ واپس کرنے سے حضورۖ نے منع فرمایا ۔اس لئے وقف کو خود استعمال کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔اور خود نگرانی کی شرط اس لئے نہیں کر سکتا کہ امام محمد کے نزدیک وقف کے مال کو کسی دوسرے نگران اور ولی کو سپرد کرنا ضروری ہے۔اس لئے خود نگرانی کرنے کی شرط نہیں لگا سکتا۔
]١٥٤٨[(١٩) اگر کسی نے مسجد بنائی تو اس کی ملک زائل نہیں ہوگی یہاں تک کہ اس کو اپنی ملکیت سے الگ کردے اس کے راستے کے ساتھ اور لوگوں کو اجازت دے اس میں نماز پڑھنے کی،پس اس میں ایک آدمی نے نماز پڑھی تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کی ملکیت زائل ہو گئی تشریح مسجد بنا کر اس کو با ضابطہ اپنی ملکیت سے الگ کرے اور اس میں آنے کا راستہ بھی دے اور سپرد کرنے کے لئے کم از کم ایک آدمی اس میں نماز پڑھے تب مسجد کا وقف مکمل ہوگا ۔
وجہ ان کے یہاں ولی کو سپرد کرنا ضروری ہے اور یہاں کوئی مخصوص ولی نہیں ہے اس لئے ملکیت سے الگ کرکے ایک آدمی کا نماز پڑھوانا کافی ہوگا۔
لغت یفرزہ : ملکیت سے علیحدہ کرنا۔
]١٥٤٩[(٢٠) امام ابو یوسف نے فرمایا اس کی ملکیت اس سے زائل ہو جائے گی اس کے کہنے سے کہ میں نے مسجد بنادی۔
تشریح امام ابو یوسف کے نزدیک کسی ولی کو سپرد کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ صرف اتنا کہہ دے کہ میں نے مسجد بنا دی اس سے وقف مکمل ہو جائے گا۔
]١٥٥٠[(٢١) کسی نے پینے کی سبیل بنائی مسلمانوں کے لئے یا سرائے بنائی مسافروں کے لئے یا مسافر خانہ بنایا یا اپنی زمین کو قبرستان بنایا تو