Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

374 - 457
ولا یجوز ان یقسمہ بین مستحقی الوقف]١٥٤٧[ (١٨) واذا جعل الواقف غلة الوقف 

]١٥٤٧[(١٨)اگر وقف کرنے والا وقف کی آمدنی اپنے لئے کرلے یا اس کی نگرانی اپنے لئے کرلے تو امام ابو یوسف کے نزدیک جائز ہے اور امام محمد نے فرمایا جائز نہیں ہے۔  
تشریح  واقف نے وقف تو کیا لیکن یہ بھی شرط لگائی کہ اس کی کچھ آمدنی میںبھی استعمال میں لاؤںگا تو یہ امام ابو یوسف کے نزدیک جائز ہے۔اسی طرح اس نے یہ شرط لگائی کہ اس کی ولایت میں کروں گا اور مین خود اس کا نگران ہوںگا تو یہ بھی امام ابو یوسف کے نزدیک جائز ہے۔   
وجہ  ان کی دلیل یہ احادیث ہیں۔عن انس ان النبی ۖ رأی رجلا یسوق بدنة فقال لہ ارکبھا فقال یا رسول اللہ انھا بدنةفقال فی الثالثة او فی الرابعة ویلک او ویحک (الف) (بخاری شریف ، باب ھل ینتفع الواقف بوقفہ ص ٣٨٥ نمبر ٢٧٥٤) اس حدیث میں وقف کے اونٹ پر مالک کو سوار ہونے کی ترغیب دی جس سے معلوم ہوا کہ وقف کے مال کو خود بھی استعمال کر سکتا ہے (٢) فقال رسول اللہ ۖ من یشتریھا من خالص مالہ فیکون دلوہ فیھا کدلاء المسلمین ولہ خیر منھا فی الجنة (ب) (دار قطنی ، باب وقف المساجد والسقایات ج رابع ص ١٢٣ نمبر ٤٣٩٤ بخاری شریف ، باب اذا وقف ارضا او بئرا او اشتری لنفسہ مثل دلاء المسلمین ص ٣٨٩ نمبر ٢٧٧٨)اس حدیث میں کہا کہ کنواں خریدے اور خریدنے والا بھی عام مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ ڈول نکالے جس سے معلوم ہوا کہ کہ وقف کرنے والا وقف کے مال کو استعمال کر سکتا ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ وقف کی نگرانی اپنے ذمہ لے تو لے سکتا ہے یا نہیں ؟ تو امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ لے سکتا ہے۔  
وجہ  ان کی دلیل یہ اثر ہے۔اخبرنی غیر واحد من آل عمر وآل علی ان عمر ولی صدقتہ حتی مات وجعلھا بعدہ الی حفصة وان علیا ولی صدقتہ حتی مات وولیھا بعدہ حسن بن علی وان فاطمة بنت رسول اللہ ولیت صدقتھا حتی ماتت وبلغنی عن غیر واحد من الانصار انہ ولی صدقتہ حتی مات قال فی القدیم وولی الزبیر صدقتہ حتی قبضہ اللہ وولی عمر بن العاص صدقتہ حتی قبضہ اللہ وولی المسور بن مخرمة صدقتہ حتی قبضہ اللہ (ج) (سنن للبیھقی ،باب جواز الصدقة المحرمة وان لم تقبض، ج سادس، ص٢٦٧،نمبر١١٩٠٢) اس اثر میں اتنے سارے صحابہ نے اپنے وقف کی نگرانی خود کی  

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وقف کا اونٹ ہانک رہا ہے تو آپۖ نے اس سے کہا سوار ہو جاؤ۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ بدنہ ہے۔آپۖ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ میں کہا تیرا ناس ہو یعنی ویلک یا ویحک کہا(ب)آپۖ نے فرمایا کون خریدے گا اپنے خالص مال سے ؟ تاکہ اس کا ڈول اس کنواں میں مسلمان کے ڈول کی طرح ہو جائے ۔اور اس کو جنت میں اس سے بہتر بدلہ ملے(ج) آل عمر اور آل علی کے بہت سے لوگوں نے خبر دی کہ حضرت عمر نے اپنے صدقے کی نگرانی موت تک کی اور اس کے بعد حفصہ کے لئے کیا۔اور حضرت علی نے اپنے صدقے کی نگرانی کی موت تک۔اس کے بعد حسن بن علی نے نگرانی کی۔اور فاطمہ نے اپنے صدقے کی نگرانی کی ۔اور انصار کے بہت سے لوگوں سے خبر ملی ہے کہ انہوں نے موت تک صدقے کی نگرانی کی ۔حضرت زبیر نے موت تک صدقے کی نگرانی کی۔عمرو بن عاص نے موت تک اپنے صدقے کی نگرانی کی ۔مسور بن مخرمہ نے موت تک اپنے صدقہ کی نگرانی کی۔

Flag Counter