للمسلمین او خانا یسکنہ بنو السبیل او رباطا او جعل ارضہ مقبرة لم یزل ملکہ عن ذلک عند ابی حنیفة رحمہ اللہ حتی یحکم بہ حاکم وقال ابو یوسف رحمہ اللہ یزول ملکہ بالقول وقال محمد اذا استقی الناس من السقایة وسکنوا الخان والرباط ودفنوا فی المقبرة زال الملک۔
زائل نہیں ہوگی اس کی ملک امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہاں تک کہ حاکم اس کا فیصلہ کردے۔اور کہا امام ابو یوسف نے صرف اس کے کہنے سے ملک زائل ہو جائے گی۔اور امام محمد نے فرمایا اگر کوئی آدمی پیاؤ سے پانی پی لے اور سرائے خانے اور مسافر خانے میں ٹھہر جائے اور قبرستان میں دفن کرنے لگیں تو ملک زائل ہو جائے گی۔
تشریح امام ابو حنیفہ کے نزدیک مسافر خانہ وغیرہ کو وقف کے لئے فیصلہ کرنے کے بعد وقف ہوگا۔ اور امام ابو یوسف کے نزدیک صرف کہنے سے وقف ہوگا۔اور امام محمد کے نزدیک اس کو کوئی مسافر یا مسکین استعمال کرلے تو وقف مکمل ہوگا ۔
اصول امام ابو حنیفہ کا اصول یہ ہے کہ قاضی کا فیصلہ ہو تب وقف مکمل ہوگا۔امام ابو یوسف کا اصول یہ ہے کہ صرف کہہ دینے سے کہ وقف کیا اس سے وقف ہو جائے گا۔اور امام محمد کا اصول یہ ہے کہ کہنے بعد جس پر وقف کیا وہ قبضہ کرے مثلا مسافر خانہ میں مسافر رہے یا سبیل سے پانی پی لے تب وقف مکمل ہوگا۔