عمارة الوقف ان احتاج الیہ وان استغنی عنہ امسکہ حتی یحتاج الی عمارتہ فیصرفہ فیھا
ہے کہ اس کو وقف کے مستحقوں کے درمیان تقسیم کرے۔
تشریح اگر وقف کی عمارت سے اینٹ ، لکڑی وغیرہ گر کر الگ ہو جائے تو ان کو اسی وقف کی مرمت میں استعمال کرے۔اور اگر ابھی استعمال کی ضرورت نہ ہو تو اس کو رکھے رہے تاکہ جب اس کی ضرورت ہو اس وقت یہ گری ہوئی چیزیں استعمال کرے،تاہم وقف کے مستحقین کے درمیان اس کو تقسیم نہ کرے ۔
وجہ مستحقوں کا حق نفع میں ہے ،عین شیء میں نہیں ہے۔اور یہ عین شیء ہے اس لئے اس کو ان کے درمیان تقسیم نہ کرے ۔اور گری ہوئی چیز کو برباد بھی نہیں کر سکتے اس لئے اس کو ضرورت کے موقع کے لئے محفوظ رکھے (٢) احادیث میں ہے کعبہ کے باقی ماندہ چیزوں کو مستحقین کے درمیان تقسیم نہیں کیا بلکہ اس کی مرمت کے لئے محفوظ رکھا۔عن ابی وائل قال جلست الی شیبة فی ھذا المسجد قال جلس الیَّ عمر فی مجلسک ھذا فقال ھممت ان لا ادع فیھا صفراء ولا بیضاء الا قسمتھا بین المسلمین قلت ما انت بفاعل قال لم قلت لم یفعلہ صاحباک قال ھما المرآن یقتدی بھما(الف) ( بخاری شریف ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ ۖ ص ١٠٨٠ نمبر ٧٢٧٥،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة) اس حدیث میں کعبہ کا ہدیہ جو وقف میں سے تھا لوگوں کے درمیان تقسیم نہیں کیا جس سے معلوم ہوا کہ وقف کی عمارت سے گری ہوئی لکڑی وغیرہ بھی مستحقین کے درمیان تقسیم نہیں کرے گا (٣) دخل شیبة بن عثمان الحجبی علی عائشة فقال یا ام المؤمنین ان ثیاب الکعبة تجتمع علینا فتکثر فنعمد الی ابارفنحتفرھا فنعمقھا ثم ندفن ثیاب الکعبة فیھا کیلا یلبسھا الجنب والحائض فقالت لہ عائشة ما احسنت وبئس ما صنعت ان ثیاب الکعبة اذا نزعت منھا لم یضرھا ان یلبسھا الجنب والحائض ولکن بعھا واجعل ثمنھا فی المساکین وفی سبیل اللہ قالت فکان شیبة بعد ذلک یرسل بھا الی الیمن فتباع ھناک ثم یجعل ثمنھا فی المساکین وفی سبیل اللہ وابن السبیل (ب) سنن للبیھقی ، باب ماجاء فی مال الکعبة وکسوتھا ،ج خامس، ص٢٦٠،نمبر٩٧٣١ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ وقف کا وہ مال جو کسی کام کا نہ ہو اس کو بیچ کر مساکین میں تقسیم کر سکتا ہے۔
حاشیہ : (الف) حضرت ابی وائل فرماتے ہیں کہ میں حضرت شیبہ کے پاس اس مسجد میں بیٹھا۔کہا کہ حضرت عمر آپ ہی کی طرح بیٹھے۔پس انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں کوئی سونا اور چاندی کعبہ میں نہ چھوڑوں مگر اس کو مسلمان میں تقسیم کردوں۔تو میں نے کہا کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے ہیں۔میں نے کہا کیوں تقسیم نہیں کر سکتے ؟ حضرت شیبہ نے کہا آپ کے دونوں ساتھی یعنی حضورۖ اور ابو بکر نے ایسا نہیں کیا۔حضرت عمر کہنے لگے وہی دونوں مقتدا ہیں(ب) حضرت شیبہ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور کہا ام المؤمنین ! کعبہ کے کپڑے جمع ہو جاتے ہیں اور بہت ہو جاتے ہیں ،پس میں بہت بڑا گڈھا کھودتا ہوںپھر اس میں کعبہ کے کپڑے دفن کر دیتا ہوں تاکہ اس کو جنبی اور حائضہ نہ پہنے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا تم نے اچھا نہیں کیا ،برا کیا۔ کیونکہ کعبہ کا کپڑا جب نکال دیا جائے تو کوئی نقصان نہیں کہ اس کو جنبی اور حائضہ پہنے۔ لیکن اس کو بیچو اور اس کی قیمت مساکین میں تقسیم کردو۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد حضرت شیبہ ان کپڑوں کو یمن بھیجتے۔وہاں اس کو بیچا جاتا پھر اس کی قیمت مسکینوں اور اللہ کے راستے مین خرچ کرتے۔