Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

372 - 457
 ]١٥٤٤[(١٥) واذا وقف دارا علی سکنی ولدہ فالعمارة علی من لہ السکنی]١٥٤٥[ (١٦) فان امتنع من ذلک او کان فقیرا آجرھا الحاکم وعمرھا باجرتھا فاذا عمرت ردھا الی من لہ السکنی]١٥٤٦[ (١٧) وما انھدم من بناء الوقف آلتہ صرفہ الحاکم فی 

]١٥٤٤[(١٥)اگر وقف کیا گھر اپنی اولاد کی رہائش کے لئے تو مرمت کرنا اس پر ہے جس کے لئے رہائش ہے۔  
تشریح  کسی مخصوص آدمی کی رہائش کے لئے گھر وقف کیا تو گھر کا کرایہ وغیرہ تو نہیں آئے گا اس لئے اس گھر کی مرمت کی ذمہ داری رہنے والے کے اوپر ہے ۔وہ اپنی آمدنی سے اس کی مرمت کروائے۔  
وجہ  جب وہ رہ رہا ہے تو الخراج بالضمان کے تحت اس پر ہی مرمت کی ذمہ داری ہوگی (٢) جس طرح خدمت کا غلام ہوتو اس غلام کا کھانا خرچ خدمت کرانے والے پر ہوتا ہے اسی طرح گھر کی مرمت رہنے والے پر ہوگی ۔ اور رشتہ داروں پر گھر وقف کرنے کی حدیث یہ ہے۔سمع انس بن مالک ... قال ابو طلحة افعل ذلک یا رسول اللہ ! فقسمھا ابو طلحة فی اقاربہ وبنی عمہ (الف) (بخاری شریف ، باب اذا وقف ارضا ولم یبین الحدود فھو جائز وکذلک الصدقة ص ٣٨٨ نمبر ٢٧٦٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اولاد کے لئے بھی وقف کرسکتا ہے۔  
لغت  سکنی  :  رہائش۔
]١٥٤٥[(١٦)اگر مرمت کرنے سے رک جائے یا فقیر ہو تو اجرت پر دے گا اس کو حاکم اور اس کی مرمت کرائے گا اس کی اجرت سے،پس جب مرمت ہو گئی تو اس کو واپس کردے اس کی طرف جس کی رہائش ہے۔  
تشریح  جس کو رہنے کے لئے دیا ہے وہ مرمت نہیں کرا رہا ہے۔یا فقیر ہے جس کی وجہ سے مرمت کرانا مشکل ہے تو اس کی صورت یہ کی جائے گی کہ اس مکان کو دوسرے کو کرائے پر حاکم دے گا اور کرایہ سے اس کی مرمت کرائے گا،پس جب مرمت کراکر پہلی حالت پر مکان آجائے تو دوبارہ اس مکان کو اس فقیر کو دے دیگاجس پر واقف نے وقف کیا تھا۔  
وجہ  رہنے والا آدمی مرمت نہیں کرا رہا ہے اور اس کی مرمت کرانا بھی ضروری ہے تو یہی شکل نکل سکتی ہے کہ دوسروں کو کرایہ پر دیدے اور اس سے جو آمدنی آئے اس سے مرمت کرائے ۔اور مرمت کرانے کے بعد کرایہ پر دینے کی ضرورت نہیں رہی اور موقوف علیہ کا حق مقدم ہے اس لئے دوبارہ اس کو واپس کر دیا جائے گا۔  
لغت  آجر  :  اجرت پر دینا۔
]١٥٤٦[(١٧)جو کچھ گر جائے وقف کی عمارت سے اور اس کے آلے سے تو حاکم اس کو صرف کرے گا وقف کی مرمت کرانے میں اگر اس کی ضرورت ہو۔اور اگر اس کی ضرورت نہ ہو تو رکھ لے یہاں تک کہ اس کی مرمت کی ضرورت ہوتاکہ اس میں اس کو صرف کرے۔اور نہیں جائز  

حاشیہ  :  (الف) ابو طلحہ نے فرمایا یہ کروں گا یا رسول اللہ ! پس ابو طلحہ نے باغ کو اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔

Flag Counter