Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

371 - 457
]١٥٤٢[ (١٣) الا ان یکون مشاعا عند ابی یوسف رحمہ اللہ فیطلب الشریک القسمة فتصح مقاسمتہ]١٥٤٣[ (١٤) والواجب ان یبتدیٔ من ارتفاع الوقف بعمارتہ شرط ذلک الواقف او لم یشترط۔

ینفق ثمرہ (الف) (بخاری شریف، باب وما للوصی ان یعمل فی مال الیتیم وما یأکل منہ بقدر عمالتہ ص ٣٨٨ نمبر ٢٧٦٤) جس سے معلوم ہوا کہ وقف مال کو نہ بیچا جا سکتا ہے نہ وارث بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔
]١٥٤٢[(١٣) مگر یہ کہ مشترک ہو امام ابو یوسف کے نزدیک اور شریک طلب کرے تقسیم کرنے کو تو صحیح ہے اس کو تقسیم کرنا۔  
تشریح  امام ابویوسف کے نزدیک مشترک جائداد وقف ہو سکتی ہے اس لئے اگر وہ مشترک ہو اور شریک اس کی تقسیم چاہتا ہو تو تقسیم کرنا جائز ہے۔  
وجہ  یہ اس کا اپنا حق ہے اور یہ بدلہ نہیں ہے بلکہ اپنے حصے کو الگ کرانا ہے اس لئے جائز ہوگا۔
]١٥٤٣[(١٤)واجب ہے کہ شروع کرے وقف کے منافع سے اس کی مرمت ،واقف نے شرط لگائی ہو اس کی یا نہ لگائی ہو۔  
تشریح  وقف کرنے والے نے چاہے یہ شرط لگائی ہو یا نہ لگائی ہو کہ اس جائداد کے منافع سے پہلے اس کی مرمت کی جائے گی۔پھر بھی وقف کے منافع سے پہلے اس کی مرمت کرنا ضروری ہے۔  
وجہ  واقف کا مقصد ہے کہ وقف کی چیز ہمیشہ رہے ۔اور یہ اسی شکل میں ممکن ہے جب وقف کے ٹوٹ پھوٹ کو مرمت کرتا رہے ورنہ وہ جلدی ختم ہو جائے گا۔اس لئے وقف کے منافع سے پہلے مرمت کا کام کرنا ضروری ہے (٢) حضرت عمر کے وقف کرنے کی لمبی حدیث میں اس کا اشارہ موجود ہے ۔عن ابن عمر ... لا جناح علی من ولیھا ان یأکل منھا بالمعروف او یطعم صدیقا غیر متمول (ب) (بخاری شریف ، باب الوقف کیف یکتب ص ٣٨٨ نمبر ٢٧٧٢) اس حدیث میں ہے کہ نگراں مناسب انداز سے کھا سکتا ہے کیونکہ وہ کام کرتا ہے تو اس پر قیاس کرتے ہوئے نفع سے مرمت بھی کرائے گا (٣)حضورۖ کے چھوڑے ہوئے وراثت کے سلسلے میں حدیث یہ ہے۔عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ لا تقتسم ورثتی دینارا ولا درھما ما ترکت بعد نفقة نسائی ومؤنة عاملی فھو صدقة (ج) (بخاری شریف ، باب نفقة القیم للوقف ص ٣٨٩ نمبر ٢٧٧٦) اس حدیث میں ہے کہ میرے کام کرنے والے کے خرچ کے بعد صدقہ ہے تو معلوم ہوا کہ وقف پر کام کرنے والے کا خرچ نفع میں سے نکالا جائے گا تو اس پر قیاس کرتے ہوئے مرمت کا خرچ بھی نفع سے نکالا جائے گا ورنہ تو وقف ہمیشہ نہیں رہ سکے گا ۔

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے فرمایا اصل کو صدقہ کردے اس طرح کہ اس کو بیچا نہ جائے ،نہ ہبہ کیا جائے اور نہ وارث بنایا جائے لیکن اس کے پھلوں کو خرچ کیا جائے (ب) ابن عمر سے روایت ہے کہ ... حرج کی بات نہیں ہے اس پر جو نگران بنے یہ کہ کھائے مناسب انداز سے یا بغیر مالدار بنائے دوستوں کو کھلائے۔(ج) میری وراثت کے درہم اور دینار تقسیم نہ کرنا جو کچھ میری بیوی کے نفقے اور نگران کے خرچ کے بعد چھوڑا وہ صدقہ ہے۔ 

Flag Counter