]٨٦٩[ (١١) ومن مات ولہ خیار الرؤیة بطل خیارہ]٨٧٠[ (١٢) ومن راٰی شیئا ثم
کپڑوں کو واپس کردے ۔
تشریح صرف ایک کپڑے کو دیکھا تھا اور ایک ہی بیع میں دوسرے کپڑے کو بھی خرید لیا جس کو دیکھا نہیں تھا تو دوسرے کپڑے کے خیار رویت کے ماتحت دونوں کپڑوں کو واپس کر سکتا ہے۔
وجہ دونوں کپڑے مختلف ہیں۔ایک کو دیکھنا دوسرے کے لئے کافی نہیں ہے اس لئے دوسرے کپڑے میں خیار رویت ملے گا اور چونکہ بیع ایک ہی ہے اور ایک کپڑے کو واپس کرے گا تو آدھی مبیع رہ جائے گی اور آدھی واپس ہوگی اس لئے واپس کرے گا تو دونوں اور رکھے گا تو دونوں کپڑے۔اثر میں ہے عن الشعبی فی رجل اشتری رقیقا جملة فوجد بعضھم عیبا قال یردھم جمیعا او یأخذھم جمیعا (مصنف عبد الرزاق ، باب الرجل یشتری المبیع جملة فیجد فی بعضہ عیبا ج ثامن ص ١٥٦ نمبر ١٤٦٩٩)اس اثر میں ہے کہ تمام مبیع لے یا تمام چھوڑ دے۔
اصول یہاں یہ اصول جاری ہے کہ مبیع مختلف ہیں اس لئے ایک کو دیکھنا دوسرے کے لئے کافی نہیں۔اس لئے دوسرے میں خیار رویت ملے گا(٢)پوری مبیع واپس ہوگی آدھی نہیں۔
]٨٦٩[(١١)کوئی مرا اور اس کے لئے خیار رویت تھا تو اس کا اختیار باطل ہو جائے گا۔
وجہ خیار رویت ایک معنوی چیز ہے اور اختیار اور ارادے کا نام ہے۔اور معنوی چیز دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہوتی ہے۔اس لئے مرنے کے بعد یہ اختیار ورثہ کی طرف منتقل نہیں ہوگا۔باطل ہو جائے گا۔
]٨٧٠[(١٢) کسی نے کوئی چیز دیکھی پھر اس کو ایک مدت کے بعد دیکھا پس اگر اسی صفت پر ہے جیسا دیکھا تھا تو اس کے لئے اختیار نہیں ہے۔اور اگر اس کو بدلا ہوا پایا تو مشتری کے لئے خیار رویت ہے۔
تشریح اس رویت سے خیار رویت ساقط ہوگا جس سے مبیع کی حقیقت کا علم ہو جائے۔اور اگر مبیع کی حقیقت کا علم نہ ہو تو وہ رویت اختیار کے ساقط کرنے کے لئے کافی نہیں۔اب اگر مثلا چھ ماہ پہلے ایک چیز کو دیکھا تھا اور اسی حال پر وہ مبیع موجود ہے تو پہلی رویت حقیقت معلوم کرنے کے لئے کافی ہے ۔اس لئے مشتری کو خیار رویت نہیں ملے گا۔اس اثر میں اس کا ثبوت ہے عن ابن سیرین قال اذا ابتاع رجل منک شیئا علی صفة فلم تخالف ما وصفت لہ فقد وجب علیہ البیع (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب البیع علی الصفة وہی غائبة ج ثامن ص٤٤ نمبر ١٤٢٣٧) اس اثر میں ہے کہ اسی صفت پر موجود ہے تو خیار رویت نہیں ملے گا۔بیع واجب ہوگی۔اور اگر مبیع کی حالت بدل گئی ہے تو پہلی رویت حقیقت معلوم کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔اس لئے مشتری کو خیار رویت ملے گا۔اور اس کے ماتحت مبیع کو واپس کرنے کا حق ہوگا ۔
حاشیہ : (الف) حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ کوئی آدمی آپ سے کوئی چیز خریدے کسی صفت پر اور جو صفت بیان کی اس کے خلاف نہیں کیا تو اس پر بیع واجب ہو گئی۔