Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

36 - 457
البیع وان شاء فسخ ولہ الاجازة اذا کان المعقود علیہ باقیا والمتعاقدان بحالھما]٨٦٨[ (١٠) ومن راٰی احد الثوبین فاشتراھما ثم رای الآخر جاز لہ ان یردھما۔

تشریح  کسی نے دوسرے کی چیز اس کے حکم کے بغیر بیچ دی تو اس کا بیچنا جائز ہے۔  
وجہ  کیونکہ یہ آدمی عاقل و بالغ ہے اور چیز مملوک اور مبیع ہے ۔اور خود اپنے لئے نہیں بیچا مالک ہی کے لئے بیچا ہے ۔اب مالک چاہے تو اس بیع کو جائز قرار دے اور پسند نہ ہو تو فسخ کر دے۔اس بیع کو بیع فضولی کہتے ہیں۔ اس بیع کا ثبوت اس حدیث میں ہے  عن عروة ان النبی ۖ اعطاہ دینارا یشتری لہ بہ شاة فاشتری لہ بہ شاتین فباع احدھما بدینار فجائہ بدینار وشاة فدعا لہ بالبرکة فی بیعہ (الف) (بخاری شریف،کتاب المناقب ص ٥١٤ نمبر ٣٦٤٢) اس حدیث میں حضرت عروة نے بغیر حضور کے حکم کے ایک دینار سے دو بکریاں خریدی،پھر بغیر حکم ہی کے ایک بکری بیچ دی اور ایک دینار نفع لیکر واپس آئے۔اور آپۖ نے اس پر دعا دی جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کو پسند فرماکر اس بیع کو جائز قرار دی۔حالانکہ بغیر حکم کے بیع کرنا فضولی کی بیع تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ فضولی کی بیع جائز ہے۔اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مالک کو بعد میں بیع بحال رکھنے اور توڑنے کا اختیار ہے ۔
 اصول  فضولی کی بیع جائز ہے۔  
فائدہ  امام شافعیفرماتے ہیں کہ فضولی کی بیع جائز نہیں ہے۔  
وجہ  کیونکہ اس کے پاس مبیع نہیں ہے۔اور حدیث میں ہے کہ جس کے پاس مبیع نہ ہو اس کے لئے بیچنا جائز نہیں ہے۔حدیث میں ہے  ذکر عبد اللہ بن عمر قال قال رسول اللہ ۖ لا یحل سلف و بیع ولا شرطان فی بیع ولا ربح مالم یضمن ولا بیع ما لیس عندک (ب) (ابو داؤد شریف ، باب فی الرجل یبیع ما لیس عندہ ص ١٣٩ نمبر ٣٥٠٤ ترمذی شریف نمبر ١٢٣٢) اس حدیث سے پتہ چلا کہ جو مبیع آدمی کے پاس نہ ہو اس کا بیچنا جائز نہیں ۔اس لئے فضولی کی بیع جائز نہیں ہے۔
مبیع موجود ہو تب اجازت دے سکتا ہے اس کی قید اس لئے ہے کہ مالک کی اجازت کے بعد بیع ہوگی۔پس اگر مبیع موجود نہ ہو تو بیع کس پر ہوگی؟اس لئے اجازت کے لئے مبیع کا موجود ہونا ضروری ہے۔اسی طرح اگر بائع موجود ہوگا اور مشتری موجود ہوگا اور وہ اپنی حالت پر ہوں یعنی اجازت کے وقت عاقل ،بالغ اور مالک ہوں تب بیع ہوگی ورنہ نہیں ہوگی۔اسی لئے متعاقدین یعنی بائع اور مشتری کو اپنی حالت پر ہونا ضروری ہے۔مثلا وہ عاقل ہی نہ رہے ،مجنون ہو جائے تو اب اس کی جانب سے بیع کیسے ہوگی۔  
لغت  معقود علیہ  :  جس پر عقد ہوا ہو یعنی مبیع۔  المتعاقدین  :  عقد کرنے والے یعنی بائع اور مشتری۔
]٨٦٨[(١٠)کسی نے دو کپڑوں میں سے ایک کو دیکھا پھر دونوں کو خرید لیا پھر دوسرے کپڑے کو دیکھا تو اس کے لئے جائز ہے کہ دونوں 

حاشیہ  :  (الف)آپۖ نے حضرت عروہ کو ایک دینار دیا تاکہ اس سے ایک بکری خریدے۔انہوں نے اس ایک دینار سے دو بکریاں خرید لی،پھر ایک بکری کو ایک دینار میں بیچا۔پس حضور کے پاس ایک دینار اور ایک بکری لے کر آئے ۔آپۖ نے ان کے لئے بیع میں برکت کی دعا کی(ب)آپۖ نے فرمایا ادھار بیچنا اور ساتھ ہی بیع کرنا حلال نہیں۔بیع میں مخالف قسم کی دو شرطیں لگانا صحیح نہیں،جب تک ضامن نہ ہو اس سے نفع اٹھانا صحیح نہیں۔اور جو کچھ تمہارے پاس نہ ہو اس کا بیچنا صحیح نہیں۔

Flag Counter