Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

368 - 457
حنیفة و محمد رحمھما اللہ تعالی حتی یجعل آخرہ بجھة لا تنقطع ابدا]١٥٣٧[ (٨) وقال ابو یوسف رحمہ اللہ اذا سمی فیہ جھة تنقطع جاز وصار بعدھا للفقراء وان لم 

اس کی تصریح کرنی ہوگی کہ یہ مال آخر ہمیشہ کے لئے فقراء کے لئے ہی ہوگا اور میرے اور میرے ورثاء کے پاس واپس نہیں آئے گا۔   
وجہ  حضرت عمر نے مقام ثمغ کی جائداد وقف کی تھی اس میں لکھاتھا کہ اس کا نگران حضرت حفصہ ہوگی ۔ اور اس کے بعد اہل رائے ہوںگے اور اس کا فائدہ غرباء و مساکین کو ہمیشہ کے لئے پہنچتا رہے گا۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔اخبرنی لیث عن یحیی بن سعید عن صدقة عمر بن الخطاب ... والمائة سھم الذی بخیبر ورقیقہ الذی فیہ والمائة التی اطعمہ محمد بالوادی تلیہ حفصة ماعاشت ثم یلیہ ذو الرأی من اھلھا ان لایباع ولا یشتری ینفقہ حیث رأی من السائل والمحروم وذی القربی ولا حرج علی من ولیہ ان اکل او اکل او اشتری رقیقا منہ (الف) (ابو داؤد شریف، باب ماجاء فی الرجل یوقف الوقف ج ثانی ص ٤٢ نمبر ٢٨٧٩ دار قطنی ، کتاب الاحباس ج رابع ص ١١٧ نمبر ٤٣٧٩)اس حدیث میں حضرت عمر نے پہلے حفصہ کو وقف کا نگران بنایا پھر اہل رائے کو بنایا اور اس کی تصریح کردی کہ یہ ہمیشہ کے 
لئے فقراء اور مساکین کے استفادے کے لئے رہے گا۔اور بیچا اور خریدا نہیں جائے گا۔
]١٥٣٧[(٨)امام ابو یوسف  نے فرمایا اگر ایسی جہت کا نام لیا جو منقطع ہو جائے گی تب بھی جائز ہے۔اور اس کے بعد فقراء کے لئے ہو جائے گا اگرچہ اس کا نام نہ لیا ہو۔  
تشریح  امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ واقف کو ہمیشہ کے لئے فقراء کی تصریح کر دینی چاہئے ۔لیکن اس نے فقراء کا نام وقف میں نہیں لیا صرف ایسے لوگوں پر وقف کیا جو کچھ سالوں کے بعد مر جائیںگے اور ختم ہو جائیںگے،پھر بھی وقف صحیح ہو جائے گا۔البتہ جن لوگوں کا نام لے کر وقف کیا ہے ان کے مرنے کے بعد لوٹ کر واقف کے ورثہ کی طرف نہیں آئے گا بلکہ خود بخود ہمیشہ کے لئے فقراء کے لئے ہو جائے گا ۔
 وجہ  وقف کا مقصد قربت حاصل کرنا ہے ۔البتہ یہ قربت کبھی مخصوص لوگوں پر وقف کرنے سے ہوتی ہے اور کبھی ہمیشہ کے لئے فقراء اور مساکین پر وقف کرنے سے ہوتی ہے اس لئے دونوں طرح کے وقف کرنے سے وقف ہوگا۔البتہ وقف کا مقصد ہمیشہ کے لئے قربت حاصل کرنا ہے اس لئے مخصوص لوگوں کے مرنے کے بعد خود بخود ہمیشہ کے لئے فقراء و مساکین کے لئے ہو جائے گا ۔
 نوٹ  تینوں اماموں کے نزدیک ہمیشہ کے لئے فقراء و مساکین کے لئے ہو جائے گا ۔البتہ طرفین کے نزدیک وقف صحیح ہونے کے لئے اس کا تصریح کرنا ضروری ہے۔ اور امام ابو یوسف کے نزدیک اس کی تصریح کرنا ضروری نہیں خود بخود مساکین کے لئے ہو جائے گا۔  
لغت  جھة تنقطع  :  اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ ایسے خاص لوگوں پر وقف کیا جس کے مرنے کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہوجائے گا۔

حاشیہ  :  (الف) عمر بن خطاب نے فرمایا وہ سوحصے جو خیبر میں ہیں اور غلام جو اس میں ہیں اور وہ حصے جو حضورۖ نے کھانے کے لئے دیئے وادی میں، ان کی نگرانی حضرت حفصہ کرے گی جب تک زندہ رہے گی۔اس کے بعد اس کے اہل کے اہل رائے نگرانی کریںگے۔اس طرح کہ نہ وہ بیچی جائے اور نہ خریدی جائے۔اس کو خرچ کریں سائل اور محروم میں سے جہاں مناسب سمجھیں۔اور کوئی حرج نہیں کہ جو اس کی نگرانی کرے وہ کھائے یا کھلائے یا اس کے نفع سے غلام خریدے۔

Flag Counter