Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

367 - 457
]١٥٣٥[ (٦) وقال محمد رحمہ اللہ لا یجوز]١٥٣٦[ (٧) ولا یتم الوقف عند ابی 

وجہ  (١) امام ابو یوسف کے نزدیک وقف پورا ہونے کے لئے موقوف علیہ کو قبضہ دلانا ضروری نہیں ہے۔صرف کہنے سے وقف ہو جاتا ہے۔اور جب قبضہ دلانا ضروری نہیں تو مشترک چیز کا بھی وقف ہو سکتا ہے (٢) ان کی دلیل اوپر کی حدیث عمر ہے کہ حضرت عمر نے لوگوں کو مشترکہ طور پر وقف کیا (٣) بنی نجار نے لوگوں کو مشترکہ طور پر مسجد کی زمین وقف کی ۔حدیث میں ہے۔عن انس قال امر النبی ۖ ببناء المسجد فقال یا بنی النجار ثامنونی بحائطکم ھذا قالوا لا وللہ لا نطلب ثمنہ الا الی اللہ (الف) (بخاری شریف ، باب اذا وقف جماعة ارضا مشاعا فھو جائز ص ٣٨٨ نمبر ٢٧٧١)اس حدیث میں کئی بنو نجار نے مشترکہ طور پر لوگوں پر مسجد کی زمین وقف کی ۔ جس سے اس کے جواز کا پتہ چلتا ہے۔  
نوٹ  البتہ اس طرح مسجد اور مقبرے کی زمین وقف کرنا جائز نہیں کہ کچھ حصہ مشترکہ طور پر مسجد کو دے اور کچھ حصہ خود رکھے۔کیونکہ مالک کبھی اپنے مصرف میں استعمال کرے گا اور کبھی مسجد کے لئے ہوگی۔اس طرح مسجد کی توہین ہوگی،نیز مسجد ہونے کے بعد اس کو کسی اور مصرف میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ اس طرح مقبرہ میں ایک سال مردہ دفن کیا جائے گا اور دوسر ے سال مالک کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس کو اصطبل بنائے گا تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔اس لئے مالک اور مسجد یا مقبرے دونوں کا مشترکہ حصہ ہو یہ امام ابو یوسف کے نزدیک بھی درست نہیں ہے۔ 
]١٥٣٥[(٦)امام محمد نے فرمایا جائز نہیں ہے۔  
تشریح  امام محمد کے نزدیک مشترک چیز کا وقف جائز نہیں جب تک کہ اس کو تقسیم نہ کردے۔  
وجہ  (١) ان کے یہاں موقوف علیہ کو قبضہ دلانا ضروری ہے اور بغیر تقسیم کئے ہوئے پورا قبضہ نہیں ہو سکتا اس لئے تقسیم کرنا ضروری ہے (٢) جس طرح ہبہ اور صدقہ میں تقسیم کرکے قبضہ دینا ضروری ہے (٣) حدیث میں اشارہ ہے۔حضرت ابو طلحہ نے اپنے باغ کو وقف کیا تھا اس کے لئے ایک لمبی حدیث ہے جس کا ٹکرا یہ ہے۔انہ سمع انس بن مالک یقول کان ابو طلحة اکثر الا نصار بالمدینة مالا من نخل ... قال ابو طلحة افعل ذلک یا رسول اللہ فقسمھا ابو طلحة فی اقاربہ وبنی عمہ (ب) (بخاری شریف ، باب اذا وقف ارضا ولم یبین الحدود فھو جائز ص ٣٨٨ نمبر ٢٧٦٩) اس حدیث میں ہے کہ ابو طلحہ نے اپنے باغ کو اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں کے درمیان تقسیم کیا۔جس سے معلوم ہوا کہ تقسیم کرنا ضروری ہے۔  
نوٹ  جو تقسیم نہ ہو سکتی ہو جیسے حمام اور پن چکی تو ان کو بغیر تقسیم کئے ہوئے بھی وقف کرنا جائز ہے۔کیونکہ مجبوری ہے۔
]١٥٣٦[(٧)امام ابو حنیفہ اور محمد کے نزدیک وقف پورا نہیں ہوگا یہاں تک کہ کردے اس کا آخر کہ کبھی منقطع نہ ہو۔  
تشریح  طرفین کے نزدیک وقف اسی وقت پورا ہوگا جبکہ وقف کا مال آخر کار ہمیشہ کے لئے غرباء و مساکین کے لئے ہو جائے ۔اور واقف کو 

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے مسجد بنانے کا حکم دیا تو آپۖ نے فرمایا بنی نجار مجھ سے اس باغ کا بھاؤ کرو۔ان لوگوں نے کیا خدا کی قسم اس کی قیمت نہیں چاہتے ہیں مگر اللہ سے(ب) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ مدینہ میں انصار میں سب سے زیادہ کھجور کے درخت والے تھے ...ابو طلحہ نے فرمایا میں یہ کروں گا اے اللہ کے رسول ! پس ابو طلحہ نے اپنے رشتہ دار اور چچازاد بھائیوں میں باغ تقسیم کر دیا۔

Flag Counter