یسمھم ]١٥٣٨[(٩) ویصح وقف العقار ولا یجوز وقف ما ینقل ویحول ]١٥٣٩[(١٠) وقال ابو یوسف رحمہ اللہ اذا وقف ضیعة ببقرھا واکرتھا وھم عبیدہ جاز]١٥٤٠[ (١١) وقال محمد رحمہ اللہ یجوز حبس الکراع والسلاح۔
]١٥٣٨[(٩) صحیح ہے زمین کا وقف کرنا اور نہیں جائز ہے ایسی چیز کا وقف کرنا جو منتقل ہوتی ہو اور بدلتی ہو۔
تشریح امام ابوحنیفہ کے نزدیک زمین اور غیر منقول چیزوں کا وقف ہوتا ہے۔اور منقول چیز وقف کرے تو وقف کے بجائے صدقہ ہوجائے گا۔ وجہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وقف کا مطلب یہ ہے کہ اصل چیز موجود رہے اور اس کے نفع سے غرباء فائدہ اٹھاتے رہیں ۔ اور غرباء اصل وقف کا مالک نہ بنے۔اور یہ بات جائداد اور غیر منقول چیزوں میں ہوگی۔منقول چیزوں کا تو اصل ہی کا غرباء مالک ہو جائیںگے۔اس لئے وہ وقف نہیں ہوا صدقہ ہو گیا ۔
وجہ اوپر کی احادیث میں زمین اور جائداد کے وقف کا تذکرہ ہے۔اور جو منقول جائداد کے وقف کا تذکرہ حدیث میں ہے وہ اصل میں صدقہ ہے کہ پوری چیز ہی کا مالک بن گیا۔
]١٥٣٩[(١٠)امام ابو یوسف نے فرمایا اگر وقف کرے زمین اس کے بیلوں کے ساتھ اور ہلواہوں کے ساتھ ،اور وہ ہلواہے اس کے غلام تھے تو جائز ہے۔
تشریح امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ زمین کو وقف کرنا اصل ہے لیکن اس کے لوازمات اور تابع چیزیں جتنی ہیں وہ سب چاہے منقول ہوں زمین کے ساتھ ان کو بھی وقف کرے تو جائز ہے۔
وجہ وہ فرماتے ہیں کہ بیل اور ہلواہا مستقل طور پر تو وقف نہیں ہو سکتے ۔کیونکہ وہ منقول چیز ہیں۔لیکن زمین کے تابع ہو کر وقف ہو سکتی ہے۔کیونکہ بعض چیز اصل طور پر جائز نہ ہو لیکن تابع کے طور پر جائز ہو سکتی ہے۔ جیسے پانی سیراب کرنے کا حق اصل طور پر بیچنا جائز نہیں لیکن تابع ہو کر بک سکتا ہے۔
اصول ان کا اصول یہ ہے کہ تابع ہو کر منقول چیزوں کا وقف جائز ہے۔
لغت ضیعة : کھیتی کی زمین۔ اکرة : کھیت میں کام کرنے والے مزدور،ہلواہا۔
]١٥٤٠[(١١)امام محمد نے فرمایاگھوڑے اور ہتھیار کا وقف جائز ہے۔
وجہ حدیث میں اللہ کے راستے میں گھوڑے اور ہتھیار کے وقف کرنے کا تذکرہ موجود ہے (٢) عن ابی ھریرة قال امر رسول اللہ بصدقة فقیل منع ابن جمیل وخالد بن ولید والعباس بن عبد المطلب فقال النبی ما ینقم ابن جمیل الا انہ کان فقیرا فاغناہ اللہ ورسولہ واما خالد فانکم تظلمون خالدا قد احتبس ادراعہ واعتدہ فی سبیل اللہ (الف) (بخاری شریف ،
حاشیہ : (الف) حضورۖ نے صدقے کا حکم دیا تو کہا گیا کہ ابن جمیل، خالد بن ولیداور عباس بن عبد المطلب نے منع کر دیا ۔تو حضورۖ نے فرمایا ابن جمیل کو غرور نہیں ہے مگر یہ وہ فقیر تھا مگر اللہ اور اس کے رسول نے اس کومالدار بنادیا۔بہر حال خالد تو تم نے اس پر ظلم کیا ۔انہوں نے اپنا زرہ اور ہتھیار اللہ کے راستے میں وقف کردیا ۔