Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

366 - 457
]١٥٣٣[ (٤) واذا صح الوقف علی اختلافھم خرج من ملک الواقف ولم یدخل فی الموقوف علیہ]١٥٣٤[ (٥) ووقف المشاع جائز عند ابی یوسف رحمہ اللہ۔

وجہ  اوپر کی حدیث میں بنو نجار نے حضورکو زمین کا ولی بنایا اور اس کو سپرد کر دیا تب ان کی ملکیت وقف سے ختم ہوئی۔اس لئے ولی بنائے اور اس کے سپرد کرے تب ملکیت ختم ہوگی۔
]١٥٣٣[(٤)جب وقف صحیح ہو جائے ان کے اختلاف کے موافق تو نکل جائے گا واقف کی ملک سے اور نہیں داخل ہوگا موقوف علیہ کی ملکیت میں۔  
تشریح  اوپر جو امام ابو حنیفہ ،امام ابو یوسف اور امام محمد کا اختلاف گزرا اس اختلاف کے مطابق وقف صحیح ہو جائے تو یہ ہوگا کہ واقف کی ملکیت سے وقف کی چیز نکل جائے گی۔لیکن جن پر وقف کیا ہے وہ اس کے مالک نہیں ہوںگے۔یہی وجہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی مال وقف بیچنا یا ہبہ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتے۔  
وجہ  وقف کا مطلب یہی ہے کہ واقف کی ملکیت میں نہ رہے۔اس لئے اس کی ملکیت سے نکل جائے گی۔البتہ وہ وقف کی نگرانی کر سکتا ہے۔اور ساتھ ہی مطلب یہ ہے کہ موقوف علیہ اس کے فوائد سے منتفع ہوتا رہے۔یہ نہیں ہے کہ اس کو بیچ دے (٢) حدیث میں ہے۔عن ابن عمر ان عمر بن الخطاب اصاب ارضا بخیبر فاتی النبی ۖ یستامرہ فیھا فقال یا رسول اللہ انی اصبت ارضا بخیبر لم اصب مالا قط انفس عندی منہ فماتأمرنی بہ قال ان شئت حبست اصلھا وتصدقت بھا قال فتصدق بھا عمر انہ لا یباع ولا یوھب ولا یورث وتصدق بھا فی الفقراء وفی القربی وفی الرقاب وفی سبیل اللہ وابن السبیل والضیف لا جناح علی من ولیھا ان یأکل منھا بالمعروف ویطعم غیر متمول (الف) (بخاری شریف ، باب الشروط فی الوقف ،کتاب الشرط ص ٣٨٢ نمبر ٢٧٣٧)اس حدیث میں آپۖ نے یوں فرمایا کہ حبست اصلھا  جس سے اشارہ ملتا ہے کہ اصل کو روک رکھے یعنی موقوف کسی کی ملکیت نہ ہو۔اور آگے جملہ ہے کہ وقف بیچا بھی نہ جائے،ہبہ بھی نہ کیا جائے اور وارث بھی کوئی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نکلا کہ نہ وہ واقف کی ملکیت رہی نہ موقوف علیہ کی۔ورنہ جس کی ملکیت میں ہو وہ اس کو بیچ سکتا ،ہبہ کر سکتا اور اس کے وارث اس کو وراثت میں تقسیم بھی کرتے ۔لیکن ایسا نہیں کر سکتے ہیں تو معلوم ہوا کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی کی ملکیت میں نہیں رہا۔
]١٥٣٤[(٥)مشترک کا وقف جائز ہے امام ابو یوسف کے نزدیک۔   
تشریح  کوئی چیز مشترک ہو اور تقسیم ہو سکتی ہو پھر بھی بغیر تقسیم کئے اس کا وقف جائز ہے ۔  
 
حاشیہ  :  (الف) عمر ابن خطاب نے خیبر میں زمین حاصل کی تو حضورۖ کے پاس مشورہ کے لئے آئے۔پس کہا یارسول اللہ مجھے خیبر میں زمین ملی ہے،اتنی اچھی زمین کبھی نہیں ملی تھی تو آپۖ کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپۖ نے فرمایا اگر چاہو تو اصل کو روک لو اور اس کا نفع صدقہ کر دو۔فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اس کو صدقہ کیا اس طرح کہ نہ بیچی جائے گی نہ ہبہ کی جائے گی نہ وارث بنائی جائے گی۔ اور نفع فقراء ،رشتہ دار،غلام آزاد کرنے،اللہ کے راستے میں،مسافر کے لئے ،مہمانوں کے لئے خرچ کیا جائے۔کوئی حرج نہیں ہے اس پر جو نگرانی کرے کہ اس سے مناسب انداز میں کھائے۔اور بغیر مالدار بنائے کھلائے ۔

Flag Counter