]١٥٢٥[ (٣٦) واذا تصدق علی فقیرین بشیء جاز]١٥٢٦[ (٣٧) ولا یصح الرجوع
تشریح ہبہ کے بارے میں گزرا کہ جو چیز تقسیم ہو سکتی ہو اس کو تقسیم کئے بغیر ہبہ کرنا جائز نہیں اسی طرح صدقہ کے بارے میں ہے کہ جو چیز تقسیم ہو سکتی ہو اس کو تقسیم کئے بغیر صدقہ کرنا جائز نہیں ہے۔
وجہ اثر میں ہے۔کتب عمر ابن عبد العزیز انہ لا یجوز من النحل الا ماعزل وافرد واعلم (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب النحل ج تاسع ص ١٠٤ نمبر ١٦٥١٤)(٢) عن ابن شبرمة قال ان لم یجز کل واحد منھما ما وھب لہ صاحبہ فلیس بشیء (ب) (مصنف عبد الرزاق ، باب حیازة ما وھب احدھما لصاحبہ ج تاسع ص ١١٦ نمبر ١٦٥٧٠) ان دونوں اثر سے معلوم ہوا کہ جب تک تقسیم نہ کیا جائے تو ہبہ جائز نہیں ہے اور یہی حال صدقہ کا بھی ہے کہ وہ تقسیم کئے بغیر جائز نہیں۔
نوٹ اگر چیز تقسیم کرنے سے برباد ہو تو پھر مجبوری ہے۔بغیر تقسیم کئے بھی صدقہ جائز ہوگا۔
]١٥٢٥[(٣٦)اگر دوفقیروں پر صدقہ کیاتو جائز ہے۔
تشریح دو فقیروں پر ایک چیز صدقہ کرے گا تو دونوں کی شرکت ہوگی اور غیر تقسیم شدہ صدقہ ہوگا اس لئے قاعدے کے اعتبار سے جائز نہیں ہونا چاہئے لیکن پھر بھی جائز ہے۔
وجہ صدقہ کا مال پہلے اللہ کے ہاتھ میں پڑتا ہے پھر گویا کہ وہ مال فقیر کے ہاتھ میں پڑتا ہے ۔اور اللہ ایک ہے اس لئے شرکت نہیں ہوئی ۔اس لئے صدقہ کا مال دو فقیروں کو صدقہ کرے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک بھی جائز ہے۔
نوٹ صاحبین کے نزدیک تو پہلے بھی دو آدمیوں کو ہبہ جائز تھا اس لئے دو آدمیوں پر صدقہ بھی جائز ہوگا۔
وجہ حدیث گزر چکی ہے ۔عن سہل بن سعد ان النبی ۖ اتی بشراب فشرب ویمینہ غلام وعن یسارہ الاشیاخ فقال للغلام ان اذنت لی اعطیت ھؤلاء فقال ما کنت لاوثر بنصیبی منک یا رسول اللہ احدا فتلہ فی یدہ (ج) (بخاری شریف، باب ہبةالواحد للجماعة ص نمبر ٢٦٠٢) اس حدیث سے مشترک ہبہ جائز ہوا تو مشترک صدقہ بھی جائز ہوگا۔
]١٥٢٦[(٣٧)قبضے کے بعد صدقہ کو واپس لینا صحیح نہیں ہے۔
وجہ صدقہ کرنے کا مقصد ثواب حاصل کرنا ہے۔اس لئے اس کو ثواب حاصل ہو گیا تو گویا کہ صدقہ کا بدلہ مل گیا تو اس کو واپس لینا جائز نہیں ہے(٢) ہبہ کو واپس لینے کے بارے میں یہ حدیث گزری۔عن ابن عباس قال قال النبی ۖ العائد فی ہبتہ کالعائد فی قیئہ (د) (بخاری شریف ، باب لا یحل لاحد ان یرجع فی ھبتہ وصدقتہ ص نمبر ٢٦٢١ مسلم شریف ، باب تحریم الرجوع فی الصدقة بعد القبض الا ما وھبہ
حاشیہ : (الف) عمربن عبد العزیز نے لکھا کہ جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس کو علیحدہ کیا جائے اور الگ کیا جائے اور اس پر نشان لگایا جائے(ب)حضرت ابن شبرمہ نے فرمایا اگر دونوں کو الگ الگ نہیں کیا جو کچھ ہبہ کیا موہوب لہ سے تو ہبہ نہیں ہوا (ج) آپۖ کے سامنے پینے کی چیز لائی گئی ،آپۖ نے پی اور دائیں جانب لڑکا تھا اور بائیں جانب بڑھے بوڑھے تھے تو لڑکے سے کہا اگر اجازت دو تو ان لوگوں کو دوں۔لڑکے نے کہا آپ کا دیا ہوا حصہ کو کسی اور کو ترجیح نہیں دوںگا،پس اس کے ہاتھ میں دے دیا(د) آپۖ نے فرمایا ہبہ واپس لینے والا قے کو واپس لینے والے کی طرح ہے۔