Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

360 - 457
و محمد رحمھا اللہ تعالی وقال ابو یوسف رحمہ اللہ جائزة]١٥٢٢[(٣٣) ومن وھب جاریة الا حملھا صحت الھبة وبطل الاستثنائ]١٥٢٣[ (٣٤) والصدقة کالھبة لا تصح الا بالقبض ]١٥٢٤[(٣٥) ولا تجوز الصدقة فی مشاع الذی یحتمل القسمة۔

داؤد شریف، باب فی الرقبی ص ١٤٥ نمبر ٣٥٥٨ نسائی شریف، کتاب الرقبی ص ١١٩ نمبر ٣٧٣٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رقبی کرنا جائز ہے۔اور رقبی کے معنی ان کے یہاں یہ ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ چیز تیری ہے۔اور یہ جائز کی صورت ہے۔
]١٥٢٢[(٣٣)کسی نے باندی ہبہ کی مگر اس کا حمل تو ہبہ صحیح ہے اور استثناء باطل ہے۔  
تشریح  کسی نے باندی ہبہ کی لیکن کہا کہ اس کا حمل ہبہ نہیں کرتا ہوں تو پوری باندی کا ہبہ ہوگا اور حمل کی نفی کرنا اور اس کا استثناء کرنا صحیح نہیں ہوگا۔  
وجہ  حمل باندی کا جز ہے اور جز کل سے علیحدہ ہبہ نہیںہو سکتا ۔اس لئے باندی ہبہ کی تو حمل بھی ہبہ ہو جائے گا(٢) بیع میں گزرا کہ باندی بیچے اور حمل کا استثناء کرے تو جائز نہیں ہے اسی طرح ہبہ کا معاملہ ہے۔تاہم وہاں بیع فاسد ہوجاتی ہے لیکن ہبہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتا اس لئے ہبہ درست رہے گا(٣) اس حدیث میں اس کا ثبوت ہے۔عن جابر بن عبد اللہ قال نھی رسول اللہ ۖ عن المزاینة وعن المحاقلة وعن الثنیا الا ان یعلم (الف) (ابو داؤد شریف ، باب فی المخابرة ص ١٢٧ نمبر ٣٤٠٥ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی النھی عن الثنیا ص ٢٤٢ نمبر ١٢٩٠) اس حدیث میں مجہول استثناء سے منع فرمایا ہے۔اس لئے حمل کو ہبہ سے مستثنی کرنا جائز نہیں ہے۔
(  صدقہ کا بیان  )
]١٥٢٣[(٣٤) صدقہ ہبہ کی طرح ہے ،نہیں صحیح ہوتا ہے مگر قبضہ کے بعد۔  
تشریح  جس طرح ہبہ کا حکم ہے اسی طرح صدقہ کا بھی حکم ہے۔یعنی ہبہ قبضہ کے بعد مکمل ہوتا ہے اسی طرح صدقہ پر قبضہ کے بعد مکمل ہوگا۔  وجہ  صدقہ بھی ہبہ کی طرح تبرع اور احسان ہوتا ہے اور مفت لینا ہوتا ہے۔اس لئے اگر صدقہ دینے والے نے کہہ دیا کہ میں آپ کو صدقہ دوں گا تو صرف اس سے صدقہ لینے والا صدقے کا مالک نہیں ہوگا جب تک صدقے پر قبضہ نہ کرے (٢)اثر میں ہے کہ صدقہ پر قبضہ کئے بغیر مالک نہیں ہوگا۔عن عثمان وابن عمر وابن عباس انھم قالوا لا تجوز صدقة حتی تقبض وعن معاذ بن جبل وشریح انھما کانالا یجیز انھا حتی تقبض (ب) (سنن للبیھقی ، باب شرط القبض فی الھبة،ج سادس، ص ٢٨١،نمبر١١٩٥١) اس اثر میں ہے کہ صدقہ پر قبضہ کئے بغیر صدقہ جائز نہیں ہوگا۔
]١٥٢٤[(٣٥)صدقہ جائز نہیں ہے مشترک چیز میں جو تقسیم ہو سکتی ہو۔  

حاشیہ  :  (الف)حضورۖ نے مزابنہ،محاقلہ اور استثناء کرنے سے روکامگر یہ کہ مستثنی منہ معلوم ہو(ب) حضرت عثمان،ابن عمر اور ابن عباس فرماتے ہیں کہ صدقہ جائز نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر قبضہ کرائے۔اور حضرت معاذ اور شریح نے فرمایا کہ صدقہ جائز نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر قبضہ دلائے۔

Flag Counter