فی الصدقة بعد القبض]١٥٢٧[ (٣٨) ومن نذر ان یتصدق بمالہ لزمہ ان یتصدق بجنس ما تجب فیہ الزکوة]١٥٢٨[ (٣٩) ومن نذر ان یتصدقبملکہ لزمہ ان یتصدق بالجمیع ]١٥٢٩[ (٤٠) ویقال لہ امسک منہ مقدار ما تنفقہ علی نفسک وعیالک الی ان
لولدہ وان سفل ص نمبر ١٦٢٢) اس حدیث کی بنا پر صدقہ واپس لینا جائز نہیں ہے ۔قال عمر حملت علی فرس فی سبیل اللہ فرأیتہ یباع فسألت رسول اللہ ۖ فقال لا تشترہ ولا تعد فی صدقتک (الف) (بخاری شریف ، باب اذا حمل رجل علی فرس فھو کالعمری والصدقة ص نمبر ٢٦٣٦)اس حدیث میں صدقہ واپس لینے سے منع فرمایا ہے اس لئے اس کو واپس لینا جائز نہیں ہے۔
]١٥٢٧[(٣٨)کسی نے نذر مانی کہ صدقہ کرے گا اپنے مال کو تو اس پر لازم ہے کہ صدقہ کرے اس قسم کا مال جس میں صدقہ واجب ہے۔ تشریح کسی نے نذر مانی کہ میں اپنا مال صدقہ کروں گا تو ان مالوں کو صدقہ کرنا واجب ہوگا جن میں اس پر زکوة واجب تھی۔ جن مالوں میں اس پر زکوة واجب نہیں تھی ان کو صدقہ کرنا لازم نہیں ہوگا۔
وجہ مال تو محاورے میں کسی بھی مال کو کہتے ہیں۔لیکن شریعت میں جب مال بولا جاتا ہے تو اس مال کو مال کہتے ہیں جن میں زکاة واجب ہو(٢) آیت میں اس کا اشارہ موجود ہے۔خذ من اموالھم صدقة تطھرھم وتزکیھم بھا وصل علیھم (آیت ١٠٣ سورة التوبة٩) دوسری آیت میں ہت ۔وفی اموالھم حق للسائل والمحروم (آیت ١٩ سورة الذاریات ٥١)ان دونوں آیتوں میں مال بول کر زکوة مراد لیا ہے۔ اس لئے مطلق مال سے شریعت میں مال زکوة مراد ہوگااور اسی کو صدقہ کرنا ہوگا نوٹ کوئی اور علامت نہ ہو تو قضا میں یہ فیصلہ کیا جائے گا،ورنہ عموما کوئی بھی مال مراد لیا جا سکتا ہے۔
]١٥٢٨[(٣٩)کسی نے نذر مانی کہ صدقہ کرے گا اپنی ملکیت کو تو اس پر لازم ہے کہ صدقہ کرے تمام مال کو۔
وجہ ملکیت میں تمام ہی مال شامل ہو جاتے ہیں۔سبھی اس کی ملکیت میں ہیں اس لئے اگر نذر مانی کہ اپنی ملکیت کو صدقہ کرے گا تو تمام مال صدقہ کرنا لازم ہوگا ۔
اصول ملکیت میں تمام ملکیت شامل ہے۔
]١٥٢٩[(٤٠)نذر ماننے والے سے کہا جائے گا اتنی مقدار روک لیں جو خرچ ہو اپنی ذات پر اور اپنے بال بچوں پر اس وقت تک کہ آپ مال کمالیں،پس جب کمالے مال تو صدقہ کرے اس کے برابر جو اپنے لئے روکا تھا ۔
تشریح پوری ملکیت صدقہ کرنے کی نذر کی وجہ سے پورا مال صدقہ کرنا پڑے گاجس سے اس کے بال بچے ہلاک ہو جائیںگے۔اس لئے اتنا مال صدقہ روک لے جس سے اس کی ذات اور بال بچے کا خرچ چل سکے۔پھر جب مال کمائے تو اتنا مال صدقہ کردے جتنا پہلے اپنے لئے
حاشیہ : (الف) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے گھوڑے کو اللہ کے راستے میں وقف کیا،پس دیکھا کہ وہ بیچا جا رہا ہے۔میں نے حضورۖ سے پوچھا۔آپۖ نے فرمایا اس کو مت خریدو اور صدقہ واپس مت لو۔