Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

359 - 457
للمعمر لہ فی حال حیاتہ ولورثتہ بعد موتہ ]١٥٢١[(٣٢) والرقبٰی باطلة عند ابی حنیفة  

تشریح  عمری کا لفظی معنی تو ہے کہ تمہاری زندگی تک یہ چیز تمہارے لئے دیتا ہوں لیکن تمہارے مرنے کے بعد میں اس کو واپس لے لوں گا۔یہ چیز تمہارے ورثہ میں تقسیم نہیں ہوگی۔لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر عمری کا لفظ سے ہبہ کر دیا تو وہ چیز مکمل موہوب لہ جس کو معمر لہ کہتے ہیں اس کی ہو جائے گی۔اور معمر لہ کے مرنے کے بعد اس کے ورثہ میں یہ چیز تقسیم ہوگی۔  
وجہ  حدیث میں ہے۔ عن جابر بن عبد اللہ ان رسول اللہ ۖ قال ایما رجل اعمر عمری لہ ولعقبہ فانھا للذی اعطیھا لا ترجع الی الذی اعطاھا لانہ اعطی عطاء وقعت فیہ الموارث (الف) (مسلم شریف ، باب العمرٰی ص٣٧ نمبر ١٦٢٥ ابو داؤد شریف ، باب فی العمرٰی ص ١٤٤ نمبر ٣٥٥١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عمرٰی کرنا جائز ہے اور معمر لہ کے مرنے کے بعد اس کے ورثہ میں تقسیم ہوگی (٢) اسی راوی سے دوسری حدیث میں ہے۔عن جابر عن النبی ۖ انہ قال العمری میراث لاھلھا (ب) (مسلم شریف، باب العمرٰی ص ٣٧ نمبر ١٦٢٥ بخاری شریف، باب ما قیل فی العمری والرقبٰی ص ٣٥٧ نمبر ٢٦٢٥) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ عمرٰی کی چیز معمر لہ کے ورثہ میں تقسیم ہوگی۔ 
]١٥٢١[(٣٢) رقبٰی باطل ہے ابو حنیفہ کے نزدیک اور محمد کے نزدیک اور کہا ابو یوسف نے کہ جائز ہے۔  
تشریح  رقبٰی کی صورت یہ ہے کہ واہب کہے یہ چیز ہبہ کرتا ہوں اس طرح کہ اگر میں پہلے مر گیا تو یہ چیز تیری رہے گی۔اور آپ پہلے مر گئے تو یہ چیز میری ہوگی۔چونکہ اس صورت میں پہلے کون مرے اس کا انتظار رہتا ہے۔اس لئے اس کو رقبٰی کہتے ہیں۔چونکہ اس صورت میں واہب موہوب لہ کے پہلے مرنے کا انتظار کرتا ہے تاکہ وہ چیز اس کو مل جائے اور موہوب لہ واہب کے پہلے مرنے کا انتظار کرتا ہے تاکہ یہ چیز موہوب لہ کو مل جائے ۔یہ ایک دوسرے کے موت کی تمنا کا طریقہ ہے اس لئے امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے۔  
وجہ  حدیث میں کراہیت کا پتہ چلتا ہے۔عن زید بن ثابت قال قال رسول اللہ ۖ من اعمر شیئا فھو لمعمرہ محیاہ ومماتہ ولا ترقبوا فمن ارقب شیئا فھو سبیلہ (ج) (ابو داؤد شریف، باب فی الرقبٰی ص ١٤٥ نمبر ٣٥٥٩ نسائی شریف ، کتاب الرقبٰی ص ١١٩ نمبر ٣٧٣٨) اس حدیث میں رقبی کرنے سے آپۖ نے منع فرمایا ہے۔اس لئے امام ابو حنیفہ کے نزدیک رقبی جائز نہیں ہے ۔
 نوٹ  تاہم اگر رقبی کر ہی دیا تو جس کے لئے رقبی کیا مال اس کے لئے مکمل ہو جائے گا۔
امام ابو یوسف کے نزدیک رقبی جائز ہے۔  
وجہ  ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔عن جابر قال قال رسول اللہ ۖ العمرٰی جائزة لاھلھا والرقبٰی جائزة لاھلھا (د) (ابو 

حاشیہ  :  (الف) کوئی آدمی عمرٰی کرے اور اس کے بعد والوں کے لئے بھی عمرٰی کردے تو وہ مال اس کے لئے ہوگا جس کے لئے دیا ۔دینے والے کی طرف واپس نہیں آئے گا۔اس لئے کہ ایسا دیا جس میں معمر لہ کی وراثت جاری ہو (ب) آپۖ نے فرمایا عمرٰی معمر لہ کا میراث ہوگا(ج) آپۖ نے فرمایا جس نے معمر لہ کے عمری کیا تو اس کی زندگی اور موت کے بعد اسی کی ہے۔رقبی مت کرو ،تاہم جس نے رقبی کیا تو وہ رقبی میں چلا جائے گا(د) آپۖ نے فرمایا عمری معمر کے لئے جائز ہے ۔اور رقبی اس کے لئے جائز ہے جس کے لئے رقبی کیا۔

Flag Counter