مستحق فضمن الموھوب لہ لم یرجع علی الواھب شیئ]١٥١٩[ (٣٠) واذا وھب بشرط العوض اعتبر التقابض فی العوضین جمیعا واذا تقابضا صح العقد وکان فی حکم البیع یرد بالعیب وخیار الرؤیة ویجب فیھا الشفعة]١٥٢٠[ (٣١)والعمرٰی جائزة
ذمہ دار نہیں ہے ،چونکہ وہ سلامت کا ذمہ دار نہیں ہے اس لئے موہوب لہ واہب سے ضمان وصول نہیں کر سکتا۔اس کے برخلاف بیع میں تو بدلہ ہوتا ہے اس لئے وہاں مشتری سلامت کا ذمہ دار ہے۔اس لئے قیمت کا کوئی حقدار نکل آئے تو مشتری سے اس کا ضمان لیا جائے گا۔ہبہ خالص تبرع اور احسان ہے ۔اس لئے واہب سے دیا ہوا ضمان وصول نہیں کر سکے گا ۔
اصول تبرع اور احسان میں چیز کی سلامت کا ذمہ دار احسان کرنے والا نہیں ہوتا ہے۔اس اصول پر یہ مسئلہ متفرع ہے۔
لغت تلف : تلف ہو جائے،ہلاک ہو جائے۔
]١٥١٩[(٣٠)اگر ہبہ کیا بدلے کی شرط پر تو ضروری ہوگا دونوں عوضوں پر قبضہ ہونا ،اور جب دونوں نے قبضہ کر لیا تو صحیح ہو جائے گا عقد اور ہوگا یہ بیع کے حکم میں کہ واپس ہو سکے گا خیار عیب اورخیار رویت کی وجہ سے اور واجب ہو گا اس میں شفعہ۔
تشریح واہب نے اس شرط پر ہبہ کیا کہ اس کا بدلہ دوگے تو اس ہبہ کی دو جہتیں ہو گئیں۔لفظ کے اعتبار سے یہ ہبہ ہے لیکن معنی کے اعتبار سے یہ بیع ہے۔اس لئے اس ہبہ میں دونوں کی رعایت ضروری ہے۔چنانچہ ہبہ ہونے کے اعتبار سے دونوں عوضوں پر قبضہ ضروری ہے ،قبضہ کرے گا تو عقد صحیح ہوگا ورنہ نہیں،اور چونکہ دونوں جانب سے ہبہ ہوئے اس لئے دونوں عوضوں پر قبضہ ضروری ہے۔
وجہ پہلے اثر میں گزرا ہے۔عن ابن عباس قالوا لا تجوز صدقة حتی تقبض (الف) (سنن للبیھقی ، باب شرط القبض فی الھبة، ج سادس ،ص ٢٨١،نمبر١١٩٥١) اس سے معلوم ہوا کہ ہبہ پر قبضہ ضروری ہے۔اور بدلے کی شرط پر ہبہ کیا ہے اس لئے معنی کے اعتبار سے یہ بیع ہے۔اس لئے بیع کی شرطوں کی رعایت ہوگی۔چنانچہ اس ہبہ میں خیار رویت اور خیار عیب جاری ہوںگے۔اور ان کی وجہ سے ہبہ واپس ہو سکے گا۔اگر ہبہ میں زمین ہو تو اس میں حق شفعہ بھی جاری ہوگا۔تفصیل گزر چکی ہے۔
اصول لفظ اور معنی دونوں کا اعتبار حتی الامکان کیا جائے گا۔
فائدہ امام شافعی اور امام زفر یہاں معنی کا اعتبار کرتے ہیں اس لئے وہ فرماتے ہیں کہ یہ ابتدا اور انتہا کے اعتبار سے صرف بیع ہے۔چنانچہ ان کے یہاں مجلس میں قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اصول ان کا اصول ہے کہ صرف معنی کا اعتبار کیا جائے گا۔
( عمرٰی کا بیان )
]١٥٢٠[(٣١)عمری جائز ہے معمر لہ کے لئے ،اس کی زندگی میں ہوگا اور اس کے ورثہ کے لئے ہوگااس کے مرنے کے بعد۔
حاشیہ : (الف) حضرت ابن عباس نے فرمایا صدقہ جائز نہیں ہے جب تک کہ اس پر قبضہ نہ کرا دیا جائے۔