Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

357 - 457
العوض ]١٥١٦[(٢٧) وان استحق نصف العوض لم یرجع فی الھبة بشیء الا ان یرد ما بقی من العوض ثم یرجع فی کل الھبة ]١٥١٧[(٢٨)   ولا یصح الرجوع فی الھبة الا بتراضیھما او بحکم الحاکم]١٥١٨[ (٢٩) واذا تلفت العین الموھوبة ثم استحقھا 

اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ بدلہ دینے کے بعد ہبہ بیع کی طرح ہو گیا۔
]١٥١٦[(٢٧)اور اگر آدھے عوض کا کوئی حقدار نکل گیا تو کچھ بھی واپس نہیں لے گا ہبہ سے مگر یہ کے لوٹائے باقی عوض کو پھر کل ہبہ واپس لے لے۔  
تشریح  واہب نے موہوب لہ سے ہبہ کے بدلے میں مثلا ایک ہزار درہم کی گائے لی تھی ۔بعد میں اس عوض یعنی آدھی گائے کا کوئی حقدار نکل گیاتو واہب کو یہ حق نہیں ہے کہ آدھا ہبہ موہوب لہ سے واپس لے لے،ہاں ! یہ کر سکتا ہے کہ باقی آدھی گائے جو واہب کے پاس ہے اس کو موہوب لہ کی طرف واپس کرے پھر پورا ہبہ واپس لے لے ۔
 وجہ  شروع میں اگر موہوب لہ آدھی گائے بھی ہبہ کے بدلے مین دیتا تب بھی ہبہ کا بدلہ ہو جاتا ۔اس لئے درمیان میں آدھی گائے ہو گئی تب بھی وہ ہبہ کا بدلہ ہے۔اس لئے واہب آدھا ہبہ واپس نہیں لے سکتا۔لیکن چونکہ عوض کی لالچ میں ہبہ کیا ہے اس لئے اس کے لئے گنجائش دی گئی کہ حقدار نکلنے کے بعد جو حصہ باقی رہ گیا وہ بھی موہوب لہ کی طرف واپس کرے،اب چونکہ ہبہ بغیر بدلے کے رہ گیا اس لئے اب پورا ہبہ واپس لے سکتا ہے۔  
اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ کچھ بدلہ بھی واہب کے پاس موجود ہو تو ہبہ واپس نہیں لے سکتا۔البتہ پورا عوض ہی اس کے ہاتھ سے نکل جائے تو اب ہبہ واپس لے سکتا ہے۔
]١٥١٧[(٢٨)اور ہبہ میں رجوع صحیح نہیں ہے مگر دونوں کی رضامندی سے یا قاضی کے فیصلے سے۔  
تشریح  واہب اور موہوب لہ دونوں ہبہ واپس کرنے پر راضی ہوں تب ہی ہبہ واپس لے سکتا ہے۔یا پھر قاضی کے ذریعہ واپس کروانے کا فیصلہ کر والے تب واپس لے سکتا ہے ورنہ نہیں۔  
وجہ  ہبہ کو واپس کرنا مختلف فیہ ہے۔امام شافعی کے نزدیک واپس کر ہی نہیں سکتا ہے۔واپس کی کراہیت کے لئے حدیث بھی گزری ہے اس لئے واپس کرنے کے لئے دو باتوں میں سے ایک چاہئے ،یا تو دونوں راضی ہوں یا پھر قاضی کا فیصلہ ہو تب واہب ہبہ واپس لے سکتا ہے۔
]١٥١٨[(٢٩) اگر تلف ہو جائے ہبہ کی ہوئی چیز پھر اس کا کوئی حقدار نکل آئے اور موہوب لہ کو ضامن بنادے تو واہب سے کچھ نہیں لے سکتا  تشریح  موہوب لہ کے پاس ہبہ کی چیز تھی وہ ہلاک ہو گئی بعد میں اس چیز کا کوئی حقدار نکل آیا اور موہوب لہ کو اس کا ضامن بنایا،کیونکہ وہ چیز ہلاک ہو گئی تھی تو موہوب لہ اس ضمان کو واہب سے وصول نہیں کر سکتا ہے۔  
وجہ  بنیادی طور پرہبہ کی چیز میں بدلہ نہیں لیا جاتا بلکہ وہ تبرع اور احسان کے طور پر واہب عطا کرتا ہے۔اس لئے واہب ہبہ کی چیز کی سلامت کا 


Flag Counter