Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

354 - 457
]١٥٠٩[(٢٠) او یموت احد المتعاقدین ]١٥١٠[(٢١) او یخرج الھبة من ملک 

الھبة اذا استھلکت فلا رجوع منھا (الف) (مصنف عبدالرزاق ،نمبر ١٦٥٥٠ مصنف ابن ابی شیبة ، ٢١١ فی الرجل یھب الھبة فیرید ان یرجع فیھ،ا ج خامس، ص٤٢٥،نمبر٢١٧٠٢) اور استہلاک کی تفسیر یہ ہے ۔عن سفیان قال تفسیر استھلاک الھبة ان یبیعھا او یھبھا او یأکلھا او یخرج من یدہ الی غیرہ فھذا استھلاک،قال سفیان وکان بعض من یشار الیہ یقول اذا تغیرت اواحدث فیھا حدثا فلا رجوع فیھا من نحو ارض وھبت لہ فزرع فیھا زرعا او ثوبا صبغہ او دارا بناھا او جاریة ولدت او بیھمة ولدت (ب) مصنف عبد الرزاق ، باب الھبة اذا استھلکت ج تاسع ص ١١٢ نمبر ١٦٥٥١) اس اثر میں ہے کہ ہبہ کی چیز ہلاک ہو جائے پھر ہلاکت کی تفصیل میں بیان کیا کہ ہبہ کی چیز بیچ دے یا ہبہ کردے یا کھا جائے یا ہبہ کی چیز میں کوئی تبدیلی آ جائے۔اور تبدیلی کی تفسیر میں بتایا کہ مثلا زمین میں کھیتی لگادے یا کپڑا رنگ دے یا زمین میں گھر بنادے یا باندی بچہ دیدے یا جانور بچہ دے دے تو سب صورتیں ہبہ کی چیز میں تبدیلی ہونا ہے اور زیادتی ہونا ہے۔اس لئے اگر ہبہ کی چیز ہلاک ہو جائے یا تبدیلی ہو جائے یا اس میں کوئی زیادتی متصلہ ہو جائے تو واہب اس کو واپس نہیں لے سکتا ہے۔کیونکہ اثر میں گزرا کہ ہبہ ہلاک ہو جائے تو اس کو واپس نہیں لے سکتا۔
]١٥٠٩[(٢٠)یا متعاقدین میں سے ایک کا انتقال ہو جائے۔  
تشریح  یعنی ہبہ کرنے والے یا موہوب لہ میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو واہب ہبہ واپس نہیں لے سکتا۔  
وجہ  اگر موہوب لہ کا انتقال ہو گیا تو ہبہ کی چیز اس کے ورثہ کی ملکیت ہو گئی ۔اور ملکیت دوسرے کی طرف منتقل ہو گئی ۔اور اوپر گزر گیا کہ ہبہ میں ملکیت بدل گئی تو ہبہ واپس نہیں لے سکتا۔اس لئے موہوب لہ کے مرنے پر ہبہ کی چیز واہب واپس نہیں لے سکتا ۔اور اگر واہب کا انتقال ہو گیا تو اب ہبہ کو واپس اس کا ورثہ کرے گا ،اور ورثہ عقد ہبہ سے اجنبی ہے،اس نے موہوب لہ کو نہیں دیا تھا کہ وہ واپس لے۔اس لئے وہ واپس نہیں لے سکتا(٢) اثر میں بھی اس کا تذکرہ ہے کہ۔عن عمر مثلہ یعنی مثل حدیثہ الذی ذکرنا فی الفصل الذی قبل ھذا الفصل وزاد یستھلکھا او یموت احدھما (ج) (شرح معانی الآثار (طحاوی) ج ثانی ص ٢٢٣) اس اثر میں ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو ہبہ واپس نہیں لے سکتا۔
]١٥١٠[(٢١)یا ہبہ موہوب لہ کی ملکیت سے نکل جائے۔   
تشریح  ہبہ موہوب لہ کی ملکیت سے نکل جائے تو ہبہ واپس نہیں لے سکتا۔  
 
حاشیہ  :  (الف) حضرت شعبی سے یہ منقول ہے ہبہ کے بارے میں کہ جب وہ ہلاک ہو جائے تو اس کو موہوب لہ واپس نہیں لے سکتا(ب) حضرت سفیان نے ہبہ کی ہلاکت کی تفسیر میں کہا یہ کہ ہبہ کی چیز کو بیچ دے،یا اس کو ہبہ کردے، یا اس کو کھالے،یا اس کے ہاتھ سے نکل کر دوسرے کے ہاتھ میں چلی جائے تو یہ استہلاک ہے۔حضرت سفیان نے فرمایا بعض جو اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں وہ فرماتے تھے  اگر ہبہ بدل جائے یا اس میں کوئی نئی چیز پیدا ہو جائے تو ہبہ کو واپس نہیں لے سکتا ۔مثلا زمین ہبہ کی تھی اس میں کھیتی بودی،یا کپڑا ہبہ کیا تھا اس کو رنگ دیا ،یا زمین پر گھر تعمیر کر دیا،یا باندی نے بچہ دے دیا،یا چوپائے نے بچہ دے دیا( تو اس ہبہ میں گویا کہ نئی چیز پیدا ہو گئی)(ج) حضرت عمرکی روایت میں یہ بھی زیادہ ہے کہ ہبہ کی چیز ہلاک ہو جائے یا عاقدین میں سے کوئی ایک مر جائے۔

Flag Counter