الموھوب لہ]١٥١١[ (٢٢) وان وھب ھبة لذی رحم محرم منہ فلا رجوع فیھا ]١٥١٢[ (٢٣) وکذلک ما وھب احد الزوجین من الآخر]١٥١٣[ (٢٤) واذا قال
وجہ موہوب لہ کے پاس ہبہ رہا ہی نہیں تو واپس کیا کریںگے (٢) پہلے اثر میں گزر چکا ہے ۔عن طاؤس عن الشعبی قالا فی الھبة اذا استھلکت فلا رجوع فیھا (الف)(مصنف عبد الرزاق ، باب الھبة اذا استھلکت ج تاسع ص ١١٢ نمبر ١٦٥٥٠) اس اثر میں ہے کہ ہبہ ہلاک ہو جائے تو واپس نہیں لے سکتا۔اور وہ موہوب لہ کی ملکیت سے نکل گئی تو ہلاک ہونا ہی ہوا ،یوں بھی ہلاک ہونے کی تفسیر گزر چکی ہے کہ ہبہ کی چیز کو بیچ دیا،یا ہبہ کر دیا، یا کھالیاتب بھی ہلاک ہونا ہی ہے۔جس کی وجہ سے ہبہ واپس نہیں لے سکتا۔
]١٥١١[(٢٢) اور اگر ہبہ کیا کوئی چیز ذی رحم محرم کو تب بھی اس میں رجوع نہیں ہے۔
تشریح اگر اپنے ذی رحم محرم رشتہ دار کو ہبہ کیا تب بھی اس سے واپس نہیں لے سکتا۔
وجہ (١) اس ہبہ کا مقصد صلہ رحمی ہے اور وہ حاصل ہو گئی، اس لئے واپس نہیں لے سکتا(٢) حدیث میں ہے کہ ذی رحم محرم کو ہبہ کرے تو واپس نہیں لے سکتا۔عن سمرة عن النبی ۖ قال اذا کانت الھبة لذی رحم لم یرجع فیھا (ب) (دار قطنی ، کتاب البیوع ص ٣٩ نمبر ٢٩٥٥ سنن للبیھقی ، باب المکافات فی الھب،ة ج سادس ،ص٣٠٠،نمبر١٢٠٢٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ذی رحم محرم کو ہبہ دے تو واپس نہیں لے سکتا۔
]١٥١٢[(٢٣)ایسے ہی اگر ہبہ کیا بیوی شوہر میں سے ایک دوسرے کو۔
تشریح اگر بیوی نے شوہر کو یا شوہر نے بیوی کو ہبہ کیا تو کوئی کسی سے ہبہ واپس نہیں لے کر سکتا۔
وجہ (١) اس ہبہ کا مقصد صلہ رحمی ہے اور وہ حاصل ہو گئی اس لئے ہبہ واپس نہیں کر سکتا ہے (٢) آیت میں اس کا اشارہ ہے کہ اگر خوشی سے ہبہ کرے تو واپس نہیں لے سکتی۔آیت میں ہے۔وآتوا النساء صدقتھن نحلہ فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئا مریئا (ج) (آیت ٤ سورة النسائ٤) اس آیت میں ہے کہ خوشی سے ہبہ کرے تو کھا سکتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ عورت اس کو واپس نہیں لے سکتی(٣) اثر میں اس کا فیصلہ ہے۔قال ابراھیم جائزة وقال عمر بن عبد العزیز لا یرجعان (د) (بخاری شریف ، باب ھبة الرجل لامرأتہ والمرأة لزوجھا ص نمبر ٢٥٨٨) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ایک دوسرے سے ہبہ واپس نہیں لے سکتے۔اور حضرت ابراہیم کا قول جاز کا مطلب بھی یہی ہے کہ جائز ہے کہ واپس نہ لے۔
]١٥١٣[(٢٤)اگر موہوب لہ نے واہب سے کہا کہ یہ اپنے ہبہ کے عوض میں لو یا بدلے میں لو یا اس کے مقابلہ میں لو،پس واہب نے اس پر قبضہ کر لیا تو حق رجوع ساقط ہو جائے گا۔
حاشیہ : (الف) حضرت طاؤس اور شعبی سے ہبہ کے بارے میں ہے کہ اگر وہ ہلاک ہو جائے تو اس کو واپس نہیں لے سکتا(ب) آپۖ نے فرمایا اگر ہبہ ذی رحم محرم کو کرے تو اس کو واپس نہیں کر سکتا (ج) عورتوں کو اس کا مہر خوشی سے دو،پس اگر وہ کچھ خوشدلی سے دے دیں تواس کو رچتا پچتا کھاؤ (د) ابراہیم نے فرمایا ہبہ جائز ہے،عمر ابن عبد العزیز نے فرمایا دونوں رجوع نہیں کر سکتے۔