Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

353 - 457
]١٥٠٧[(١٨) الا ان یعوضہ عنھا ]١٥٠٨[(١٩) او یزید زیادة متصلة۔

تشریح  کسی اجنبی کو کوئی چیز ہبہ کی تو ہبہ کرنے والے کو حق ہے کہ اس چیز کو واپس کر لے۔لیکن اگر وہ چیز ہلاک ہوگئی تو واپس نہیں لے سکتا،یا اس چیز کا کوئی بدلہ دیا تو واپس نہیں لے سکتا،یا وہ آدمی رشتہ دار ہے تو واپس نہیں لے سکتا۔  
وجہ  حدیث میں اس کا ثبوت ہے۔عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ۖ الرجل احق بھبتہ مالم یثب منھا(الف) ( دار قطنی ، کتاب البیوع ج ثالث ص ٣٩ نمبر ٢٩٥١ سنن للبیھقی ، باب المکافاة فی الھبة ،ج سادس، ص ٣٠٠،نمبر ١٢٠٢٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب تک ہبہ کا بدلہ نہ دیا جائے واہب ہبہ کو واپس لے سکتا ہے۔البتہ ہبہ واپس لینا مکروہ ہے۔حدیث میں ہے۔عن ابن عباس عن النبی ۖ قال العائد فی ہبتہ کالعائد فی قیئہ (ب) (ابو داأد شریف ، باب الرجوع فی الھبة ج ثانی ص ١٤٣ نمبر ٣٥٣٨ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی کراہیة الرجوع فی الھبة ص ٢٤٢ نمبر ١٢٩٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہبہ کو واپس لے تو سکتا ہے لیکن لینا مکروہ ہے۔
]١٥٠٧[(١٨)مگر یہ کہ ہبہ کا بدلہ دے دے۔  
تشریح  ہبہ کا کچھ بدلہ دیدے تو واہب اس کو واپس نہیں لے سکتا ہے۔  
وجہ  (١) بدلہ دینے کے بعد بیع کی صورت ہو گئی ۔اور بدلہ مل گیا تو ہبہ کیسے واپس کر سکتا ہے (٢) اوپر حدیث گزری جس میں تھا کہ  مالم یثب منھا  کہ جب تک بدلہ نہ دے تو ہبہ واپس لے سکتا ہے ۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ بدلہ دے دینے کے بعد واہب واپس نہیں لے سکتا ہے  فائدہ  امام شافعی فرماتے ہیں کہ موہوب لہ بدلہ نہ بھی دے تب بھی واہب واپس نہیں لے سکتا ہے۔  
وجہ  ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔ عن ابن عمر وابن عباس عن النبی ۖ قال لا یحل لرجل ان یعطی عطیة او یھب ھبة فیرجع فیھا الا الوالد فیما یعطی ولدہ ومثل الذی یعطی العطیة ثم یرجع فیھا کمثل الکلب یأکل فاذا شبع قاء ثم عاد فی قیئہ (ج)(ابو داؤد شریف ، باب الرجوع فی الھبة ص ١٤٣ نمبر ٣٥٣٩ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی کراہیة الرجوع فی الھبة ص ٢٤٢ نمبر ١٢٩٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہبہ کو واپس لینا حلال نہیں ہے۔صرف والد کے لئے حلال ہے کہ وہ اپنے بچے کو دیئے ہوئے ہبہ کو واپس لے۔
]١٥٠٨[(١٩)یا اس میں ایسی زیادتی کردے جو متصل ہو۔  
تشریح  ہبہ کی چیز میں کوئی ایسی زیادتی ہو جائے جو ہبہ کے ساتھ متصل ہو تو اب ہبہ کی چیزکو ہبہ کرنے والا واپس نہیں لے سکتا۔  
وجہ  جو چیز زیادہ ہو گئی اس کو الگ کرکے واپس نہیں کر سکتا ۔کیونکہ وہ تو ہبہ کی چیز کے ساتھ متصل ہے۔اور اس کے ساتھ ہی واپس نہیں لے سکتا۔کیونکہ وہ تو واہب کی چیز نہیں ہے۔وہ تو موہوب لہ کے یہاں زیادہ ہوئی ہے (٢) اثر میں ہے۔عن طاؤس عن الشعبی قالا فی  

حاشیہ  :  (الف)آپۖ نے فرمایا آدمی ہبہ کا زیادہ حقدار ہے جب تک اس کا بدلہ نہ دے دے(ب) آپۖ نے فرمایا ہبہ کو واپس لینے والا ایسا ہے جیسے قے کو واپس کھا جانے والا(ج) آپۖ نے فرمایا کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ عطیہ دے یا ہبہ کرے پھر اس کو واپس لے۔مگر جو کچھ اپنے لڑکے کو دے یعنی وہ واپس لے سکتا ہے۔اور اس کی مثال جو عطیہ دے پھر واپس لے ایسی ہے جیسے کتا کھاتا ہے،پس جب پیٹ بھر جاتا ہے تو قے کرتا ہے پھر قے کو چاٹتا ہے۔

Flag Counter