واحد من اثنین دارا لم تصح عند ابی حنیفة رحمہ اللہ وقالا رحمھما اللہ تعالی تصح]١٥٠٦[ (١٧) واذا وھب لاجنبی ھبة فلہ الرجوع فیھا۔
نہیں ہے۔اس لئے یہ ہبہ صحیح نہیں ہوگا (٢) اثر میں ہے۔کتب عمر بن عبد العزیز انہ لا یجوز من النحل الا ما عزل وافرد واعلم (الف) ّمصنف عبدالرزاق ، باب النحل ج تاسع ص ١٠٤ نمبر ١٦٥١٤) (٣) سألت ابن شبرمة عنہ فقال اذا سمی فجعل لہ مائة دینار من مالہ فھو جائز وان سمی ثلثا او ربعا لم یجز حتی یقسمہ (ب) (مصنف عبدالرزاق ، باب الہبات ،ج تاسع،ص ١٠٨ نمبر ١٦٥٣١) ان دونوں آثار سے معلوم ہوا کہ مشترکہ چیز کو ہبہ کرنا صحیح نہیں ہے ۔اور یہاں چونکہ دو آدمیوں کو ایک گھر مشترکہ طور پر ہبہ کیا تھا اس لئے جائز نہیں ہے ۔
فائدہ صاحبین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی دو آدمیوں کو ایک گھر ہبہ کرے تو جائز ہے۔
وجہ ہبہ کرتے وقت ایک ہی جائداد ہے اور ایک ہی عقد ہے۔البتہ تقسیم اور اشتراک ہبہ کے بعد واقع ہوئے ہیں اس لئے ہبہ درست ہے (٢) احادیث میں اس کا ثبوت ہے۔وقالت اسماء للقاسم بن محمد وابن ابی عتیق ورثت عن اختی عائشة بالغابة وقد اعطانی بہ معاویة مائة الف فھو لکما (ج) بخاری شریف ، باب ھبة الواحد للجماعة ص ٣٥٤ نمبر ٢٦٠٢) اس اثر میں حضرت اسماء نے ایک لاکھ کو دو آدمیوں میں مشترکہ طور پر ہبہ کیا(٣)اوپر حدیث گزری کہ حضورۖ نے اپنا جھوٹا بڑوں کے درمیان اور لڑکے کے درمیان مشترکہ طور پر ہبہ کیا اور لڑکے نے اپنا حصہ کسی اور کو نہیں دیا ۔حدیث یہ ہے ۔عن سہل بن سعد ان النبی ۖ اتی بشراب فشرب وعن یمینہ غلام وعن یسارہ الاشیاخ فقال للغلام ان اذنت لی اعطیت ھؤلاء فقال ما کنت لاوثربنصیبی منک یا رسول اللہ احد فتلہ فی یدہ (د)(بخاری شریف ، باب ھبة الواحد للجماعة ص ٣٥٤ نمبر ٢٦٠٢) اس حدیث میں مشترکہ طور پر شربت ہبہ کیا۔جس سے مشترکہ طور پر ہبہ کرنے کے جواز کا پتہ چلتا ہے (٤) حضرت ابو قتادہ نے وحشی گدھا شکار کر کے سب صحابہ کو مشترکہ طور پر ہبہ کیا تھا جس کا ثبوت حدیث میں ہے (بخاری شریف نمبر ٢٥٧٠)
اصول صاحبین کے نزدیک مشترکہ ہبہ کی گنجائش ہے۔
]١٥٠٦[(١٧)اگر ہبہ کیا اجنبی کو کوئی ہبہ تو اس کے لئے جائز ہے واپس لے لینا۔
حاشیہ : (الف) ہبہ جائز نہیں ہے مگر جو الگ کیا گیا ہو اور علیحدہ کیا گیا ہواور نشان لگایا گیا ہو(ب) حضرت ابن شبرمہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا اگر متعین کرے اس طرح کہ مال کا سو دینار ہبہ کر رہا ہے تو جائز ہے۔اور اگر متعین کرے اس طرح کہ مال کی تہائی یا چوتھائی ہے تو جائز نہیں ہے یہاں تک کہ اس کو تقسیم کردے (ج) حضرت اسماء نے قاسم بن محمد اور ابن ابی عتیق کو کہا میری بہن عائشہ کی جانب سے مقام غابہ میں وارث ہوئی ہوں ۔اور حضرت معاویہ نے مجھ کو ایک لاکھ درہم دیئے ہیں یہ تم دونوں کے لئے ہیں (د) آپۖ کے سامنے پینے کی چیز لائی گئی ۔آپۖ نے پیا اور دائیں جانب لڑکا تھا اور آپۖ کے بائیں جانب بڑے بوڑھے تھے ۔آپۖ نے لڑکے سے فرمایا اگر اجازت دو تو ان بوڑھوں کو دے دوں۔ لڑکے نے کہا آپۖ کی جانب سے میرے حصے کو کسی اور کو ترجیح نہیں دوں گااے اللہ کے رسول ! پس اس کے ہاتھ میں پینے کی چیز دے دی۔