]١٥٠١[ (١٢) فان کان فی حجر امہ فقبضھا لہ جائز ]١٥٠٢[(١٣) وکذلک ان کان فی حجر اجنبی یربیہ فقبضہ لہ جائز]١٥٠٣[ (١٤) وان قبض الصبی الھبة بنفسہ وھو یعقل جاز]١٥٠٤[ (١٥) وان وھب اثنان من واحد دارا جاز]١٥٠٥[ (١٦) وان وھب
١١٩٥٢) جس سے معلوم ہوا کہ جو ولی ہو اس کا قبضہ کرنا ہبہ مکمل ہونے کے لئے کافی ہے۔
]١٥٠١[(١٢)پس اگر یتیم ماں کی گود میں ہو تو ماں کا قبضہ کرنا یتیم کے لئے جائز ہے۔
تشریح یتیم ماں کی نگرانی اور ولایت میں ہے تو یتیم کے ہبہ پر ماں کا قبضہ کرنا ملکیت کے لئے کافی ہے۔
وجہ پہلے قاعدہ گزر چکا ہے کہ جو ولی ہو بچے کے لئے اس کا قبضہ کرنا کافی ہے،یہاں ماں ولیہ ہے اس لئے اس کا قبضہ کرنا کافی ہے۔
]١٥٠٢[(١٣) ایسے ہی اگر یتیم اجنبی کی گود میں ہو جو اس کی پرورش کرتا ہو تو اس کا قبضہ یتیم کے لئے جائز ہے۔
وجہ اجنبی چونکہ ولی بن گیا اس لئے ہبہ پر اجنبی ولی کے قبضے سے یتیم کی ملکیت مکمل ہو جائے گی۔
اصول یہ سب مسئلے اس اصول پر ہیں کہ جو بچے کا ولی ہو اس کے قبضہ کرنے سے ہبہ مکمل ہو جائے گا۔
]١٥٠٣[(١٤)اور اگر بچے نے خود ہبہ پر قبضہ کیا اور وہ سمجھدار ہے تو جائز ہے۔
تشریح بچہ سمجھدار ہے اور اس نے ہبہ پر قبضہ کیا تو جائز ہو جائے گا اور بچہ مالک ہو جائے گا۔
وجہ سمجھدار ہونے کی وجہ سے اس کو خرید و فروخت میں وکیل بنا سکتے ہیں اس لئے ہبہ پر اس کا قبضہ بھی ملکیت کے لئے کافی ہوگا (٢) یہ اس کے فائدے کے لئے ہے اس لئے فائدہ کا کام وہ کر سکتا ہے (٣) حدیث میں ہے کہ سمجھدار لڑکے نے حضورۖ سے کہا میں آپۖ کے جھوٹے کو کسی کو نہیں دے سکتا اور حضورۖ نے اس کو اپنا جھوٹا ہبہ کیا اور وہ خود قبضہ کرکے اس کا مالک بنا۔جس سے معلوم ہوا کہ سمجھدار بچہ ہبہ پر خود قبضہ کر سکتا ہے۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔ عن سہل بن سعد ... فقال ما کنت لاوثر بنصیبی منک یا رسول اللہ احدا فتلہ فی یدہ (الف) (بخاری شریف، باب ھبة الواحد للجماعة ص ٣٥٤ نمبر ٢٦٠٢) پوری حدیث پہلے گزر چکی ہے۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ سمجھدار بچے کو بھی قبضہ کا حق ہے۔
]١٥٠٤[(١٥)اگر ہبہ کیا دو آدمیوں نے ایک شخص کو ایک مکان تو جائز ہے۔
وجہ دو آدمیوں نے ایک آدمی کو ایک مکان ہبہ کیا تو اس میں شرکت اور شیوع نہیں پائی گئی جو ہبہ کے لئے مانع ہے اس لئے یہ ہبہ جائز ہے۔
]١٥٠٥[(١٦)اور اگر ہبہ کیا ایک آدمی نے دو آدمیوں کو ایک گھر تو ابو حنیفہ کے نزدیک صحیح نہیں ہے ۔اور صاحبین فرماتے ہیں کہ صحیح ہے ۔ تشریح ایک آدمی کا ایک گھر ہے۔اس نے دو آدمیوں کو مشترکہ طور پر آدھا آدھا ہبہ کیا تو جائز نہیں ہے۔
وجہ (١) دو آدمیوں کو ایک مکان ہبہ کیا تو ان دونوں کے درمیان شیوع اور اشتراک پایا گیا ۔اور پہلے گزر چکا ہے کہ شیوع کے ساتھ ہبہ درست
حاشیہ : (الف) لڑکے نے کہا آپۖ کی جانب سے میرے حصے پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گااے اللہ کے رسول ! پس اس کے ہاتھ میں دے دیا۔