یوجد فیھا قبضا]١٤٩٩[ (١٠) فان وھب لہ اجنبی ھبة تمت بقبض الاب]١٥٠٠[ (١١) واذا وُھب للیتیم ھبة فقبضھا لہ ولیہ جاز۔
تشریح باپ نے اپنے چھوٹے بیٹے کو کوئی چیز ہبہ کی تو جیسے ہی عقد کیا تو چھوٹا بیٹا اس کا مالک ہو جائے گا ،الگ سے باپ کا نیا قبضہ کرنا ضروری نہیں ہے ۔
وجہ چھوٹے بیٹے کی جانب سے تو خود باپ ہی قبضہ کرے گا۔کیونکہ بچے کا ولی وہی ہے،اور باپ کے قبضے میں پہلے سے وہ چیز موجود ہے اس لئے دوبارہ قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس لئے عقد ہبہ کرتے ہی بچہ ہبہ کی چیز کا مالک ہو جائے گا (٢) اوپر حدیث گزر چکی ہے کہ موہوب لہ کے قبضے میں ہبہ کی چیز ہو تو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اور بچے کی جانب سے باپ ہی ہبہ پر قبضہ کرنے کا ولی ہے اس کی دلیل یہ اثر ہے۔عن عثمان بن عفان انل قال من نحل ولدا لہ صغیرا لم یبلغ ان یحوز نحلہ فاعلن بھا واشھد علیھا فھی جائزة وان ولیھا ابوہ۔دوسری روایت میں ہے۔فشکی ذلک الی عثمان فرأی ان الوالد یجوز لولدہ اذا کانوا صغارا (الف) (سنن للبیھقی ، باب یقبض للطفل ابوہ ،ج سادس ،ص ٢٧٢،نمبر١١٩٥٢ مصنف عبدالرزاق ، باب النحل ،ج تاسع،ص ١٠٣ نمبر ١٦٥١٠ ١٦٥١١) اس اثر سے پتہ چلا کہ باپ چھوٹے بیٹے کی جانب سے قبضہ کریںگے۔اور چیز پہلے سے اسی کے قبضے میں ہے اس لئے نئے قبضے کی ضرورت نہیں ہے۔اس لئے ہبہ کا عقد کرتے ہی چھوٹا بیٹا ہبہ کا مالک ہو جائے گا ۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ چھوٹے بچے کی جانب سے باپ یا اس کی ولی قبضہ کرے گا۔
نوٹ بچہ کا کوئی ولی یا وصی ہو اور وہ اس بچہ کو ہبہ کرنا چاہے تو باپ کی طرح ہبہ کا عقد کرتے ہی بچہ اس چیز کا مالک بن جائے گا،دو بارہ قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ،کیونکہ وہ چیز ولی یا وصی کے ہاتھ میں ہی ہے۔
]١٤٩٩[(١٠)اور اجنبی نے بچے کو ہبہ کیا تو ہبہ مکمل ہو جائے گا باپ کے قبضہ کرنے سے۔
تشریح کسی اجنبی نے چھوٹے بچے کو ہبہ کیا اور بچہ باپ کی ولایت میں ہے تو باپ ہی بچے کی جانب سے قبضہ کرے گا اور اسی کے قبضہ سے بچہ مالک بن جائے گا،بچہ کو الگ سے قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
وجہ پہلے اثر میں گزر چکا ہے کہ بیٹے کی جانب سے باپ قبضہ کرے گا۔فرأی عثمان بن عفان ان الوالد یجوز لولدہ اذا کونوا صغارا (سنن للبیھقی، ج سادس، ص ٢٨٢،نمبر١١٩٥٤)
]١٥٠٠[(١١) اگر یتیم کو کوئی چیز ہبہ کی گئی اور قبضہ کیا اس کو اس کے ولی نے تو جائز ہے۔
وجہ یتیم چھوٹا ہونے کی وجہ سے ہبہ پر قبضہ نہیں کر سکتا اور باپ ہے نہیں جو قبضہ کرے ۔اس لئے یتیم کا جو ولی ہے یا وصی ہے اس کا قبضہ ہی یتیم کی ملکیت کے لئے کافی ہے (٢) پہلے اثر گزر چکا ہے ۔ان ولیھا ابوہ ( سنن للبیھقی ، باب یقبض للطفل ابوہ ،ج سادس، ص٢٨٢، نمبر
حاشیہ : (الف) حضرت عثمان بن عفان نے فرمایا جس نے نابالغ چھوٹے بچے کو ہبہ کیا تو اس کے ہبہ پر قبضہ کرے ،پس اگر اس کا اعلان کیا اور اس پر گواہ بنایا توجائز ہے۔اور بچے کا ولی اس کا باپ ہے،حضرت عثمان کو اس کی شکایت کی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ والد اپنے بچے کے لئے قبضہ کرے اگر وہ چھوٹے ہوں۔